u مشک کے لیے غیر قانونی شکار، ہمالین ہرن معدومیت سے دوچار ​ | ٹی این این Share Button" />
Published On: Sat, Mar 3rd, 2018

مشک کے لیے غیر قانونی شکار، ہمالین ہرن معدومیت سے دوچار ​

  تنویراحمد

:گلگت ​

  ہمالین مشک ہرن گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقے منی مرگ ، قمری اور کلشیئ جسے وادی گریز بھی کہا جاتا ہے میں پایا جاتا ہے جو اب تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ مقامی لوگ اور ملک کے دیگر حصوں سے اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ آنے والے بکروال مئی تا ستمبر اس جانور کا غیر قانونی شکار کرتے ہیں اور حکومتی سطح پر اس کے بچاو کے لئے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔  اس ہرن کے شکار کی بڑی وجہ اس کا نافہ ہے جو اس کی موت کا سبب بنتا ہے مشک نافہ کی فی تولہ قیمت سونے کی فی تولہ قیمت سے زیادہ ہوتی ہے ۔

گلگت بلتستان کے ضلع استورکی وادی منی مرگ قمری میں پایا جانے والا مشک نافہ ہرن (مسک ڈیر) معدومیت کے خطرے سے دوچار ہو کر رہ گیا ہے ، مقامی لوگوں میں شعورکی کمی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں کی علاقے تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مسک ڈیر کا غیر قانونی شکار سال بھر عروج پر رہتا ہے ۔

جنگلی حیات کے تحفظ پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشک نافہ ہرن کی نسل کشی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگ اپنے مفاد کے لئے اس کا غیر قانونی شکار کرتے ہیں جبکہ اس کے تحفظ کے لئے کوئی ایسا فورم نہیں ہے کہ جس کے ذریعے انہیں بچایا جا سکے

 منی مرگ گاوں کی معتبرسماجی شخصیت محمد سلطان بیگ کا دی نیچر نیوز سے گفگتو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ویسے تو گلگت بلتستان بھر سے نایاب جنگلی حیات معدوم ہوتی جا رہی ہے اوربالخصوص وادی گریز میں پایا جانے والا مشک نافہ ہرن بھی معدومیت سے دوچاران جنگلی حیات میں شامل ہے ان کا کہنا تھا کہ آج سے تقریباُ چار دہائیاں قبل وہ خود بھی شکاری تھے اور چونکہ اس زمانے میں علاقے میں مشک نافہ ہرن کی تعداد شائد ہزاروں میں تھی اس لئے وہ اور ان کے دیگر ساتھی شوق سے اس کا شکار کرتے تھے لیکن گزرتے وقت نے شکاریوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا اور آج یہ حالت ہے کہ منی مرگ ، قمری اور کلشیئ کے جنگلات میں مشک​​ ڈیر کی تعداد شائد درجنوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہو گی ۔انہوں نے بتایا کہ لوگ پہلے جنگل جاتے تھے اور آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں مشک نافہ والے ہرن کا شکار کر کے گھر آتے تھے اور اب یہ حالت ہے کہ شکاری اس غیر قانونی شکار کے تلاش میں صبح گھر سے نکلتا ہے اور رات گئے واپس آجاتا ہے اور وہ بھی اکثر اوقات خالی ہاتھ ہی آتا ہے ۔

 اس سوال پر کہ مقامی لوگ اس جانور کے تحفظ کے لئے آگے کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے بتایا کہ دو وجوہات ہیں اس کی ایک تو لوگوں میں شعورکی کمی ہے اوردوسرا یہ کہ مشک نافہ کی وجہ سے لوگ اس کی جان لینے کے درپے رہتے ہیں ایسے میں تحفظ کیسے ممکن ہو گا ہاں البتہ ایک طریقہ ہے جو گلگت بلتستان کے دوسرے علاقوں میں بہت کامیاب ٹھرا ہے اور اس کے ثمرات عام لوگوں کو بھی مل رہے ہیں اور وہ ہے ٹرافی ہنٹنگ اگر کسی طرح یہ پروگرام اس علاقے میں متعارف ہو تو مشک نافہ ہرن کی معدوم ہوتی نسل کو بچایا جا سکتا ہے ۔ 65 سالہ محمد سلطان بیگ  نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ملکی و بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں ہماری مدد کریں ان کا کہنا تھا کہ جس طرح استور مارخور اور بلیو شیپس کا تحفظ ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے اسی طرح مسک ڈیر کی ٹرافی ہنٹنگ متعارف کرائی گئی تو نہ صرف اس کو معدومیت سے بچایا جا سکے گا بلکہ اس کی آمدن سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کا معیار زندگی بھی بدلا جا سکتا ہے ۔

 اس سلسلے میں کنزر ویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف گلگت بلتستان یعقوب علی سے ہم نے جب پوچھا کہ کیا یہ جانور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات میں شامل ہے اور اگر ہے تو اس کے تحفظ کے لئے ادارہ کیا کام کر رہا ہے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے اور اس کے تحفظ کے حوالے سے تو “ایز سچ” کوئی قانون نہیں لیکن ہم یہ پلان ترتیب دے رہے ہیں کہ ان علاقوں کی مقامی کمیونٹی سے مل کر ان کے تحفظ کے لئے کوئی راہ تلاش کریں ۔

اس سوال پر کہ کیا اس کی ٹرافی ہنٹنگ متعارف نہیں کرائی جا سکتی ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہے اور ہم اس پر سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس جنگلی حیات کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو یہ جانور انتہائی دور دراز علاقوں میں پایا جاتا ہے اور پھر اس کے مشک نافہ کی وجہ سے لوگ اس کا شکار کرتے ہیں اس لئے محکمہ جنگلی حیات کو ان علاقوں تک رسائی کے حصول میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ رواں برس ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ہم ضلع استور ، گلگت کے علاقے حراموش سمیت دیگر علاقوں میں جہاں یہ جانور پایا جاتا ہے وہاں کی مقامی آبادی سے مل کر اس کے تحفظ کے لئے کوئی لایئہ عمل ترتیب دے سکیں ۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس