u صحرا میں تڑپتے مرتے مور | ٹی این این Share Button" />
Published On: Sun, Jun 4th, 2017

صحرا میں تڑپتے مرتے مور

رپورٹ: فہمیدہ ریاض
کراچی : پاکستان کے صحرائی علاقے تھر پارکر میں مزید 8 مور ہلاک ہوگئے ہیں، یہ ہلاکتیں ننگرپارکر کے گاؤں بانبھن ٹوبھو اور سومڑ بھیل میں پیش آئی ہیں۔

صحرائے تھر میں موروں کی ہلاکتوں کا سلسلہ 2012 سے شروع ہوا تھا، لیکن پانچ سال گذرنے کے باوجود محکمہ جنگی حیات اور محکمہ اینیمل ہیسبنڈری اس کی وجوہات کا پتہ نہیں لگا سکے ہیں۔

محکمہ جنگلی حیات نے موروں کی ہلاکت کی پہلی وجہ رانی کھیت کی بیماری بتائی تھی، جبکہ بعد میں علاقے میں قحط سالی کی وجہ سے دانے پانی کی قلت کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔

محکمہ وٹرنری کا حالیہ دنوں ایک اور بھی موقف سامنے آیا ہے کہ فارمی مرغی کی انتڑیاں باہر پہینک دی جاتی ہیں جو مور کھاتے ہیں اور ان میں سے ہی انہیں وائرس لگ جاتا ہے۔
صوبہ سندھ کے صحرائی علاقہ تھرپاکر مطلوبہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ تین سالوں سے مسلسل قحط سالی کا سامنا کر رہا ہے، اس بارانی علاقے میں فصل نہ ہونے اور مقامی درختوں پر جنگلی پھل نہ ہونے کے باعث موروں کی خوراک محدود ہوگئی ہے۔

ہندو کمیونٹی کے پاس مور کی مقدس حیثیت ہونے کی وجہ سے اقلیتی آبادی کے گاؤں میں ان کے لیے دانےپانی کا بندوبست کیا جاتا ہے، اور ان ہی علاقوں میں مور کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

گزشتہ تین ماہ میں محکمہ جنگلی حیات تقریبا 80 کے قریب موروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتا ہے جبکہ مقامی میڈیا میں یہ تعداد کئی گنا زیادہ یعنی 400 تک رپورٹ ہوچکی ہے۔ تین ماہ قبل وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی ہلاکتوں کا نوٹیس لیا تھا لیکن موروں کو کوئی رلیف نہیں پہنچ سکا۔

پاکستان میں سب سے زیادہ مور صحرائے تھر میں پائے جاتے ہیں، پنجاب میں ان کی فارمنگ کی جارہی ہے۔ تھر میں بجلی کے پولز لگنے کے بعد بھی بعض دیہاتوں میں مورو کی ہلاکت کے واقعات پیش آئے تھے، مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ مور بجلی کے پولز پر جاکر بیٹھتے ہیں اور جیسے ہیں چونچ تار سے لگتی ہے وہ بجلی کا کرنٹ انہیں جکڑ لیتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے اور امریکی امداد کے ذریعے موروں کی افزائش نسل کے لیے لیکن یہ پروگرام کارگر ثابت نہیں ہوسکے ہیں اور موروں کی ہلاکت جوں کی توں جاری ہے۔

Share Button
Print Friendly

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس