u کراچی سے ناپید ہوتے درخت | ٹی این این Share Button" />
Published On: Sat, Dec 3rd, 2016

کراچی سے ناپید ہوتے درخت

پیپل کا یہ درخت بھی بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کہ وجہ سے کافی حد تک خراب حالت میں اچکا ہے ۔ تصویر: محمد ایاز خان

پیپل کا یہ درخت بھی بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کہ وجہ سے کافی حد تک خراب حالت میں اچکا ہے ۔ تصویر: محمد ایاز خان

تحریر و تصاویر: محمد ایاز خان
کراچی:
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تیزی کے ساتھ رہاشی مکانات اور بڑے بڑے پلازہ تعمیر کرنے کے لئے شہر سے درختوں کا صفاء یاکیا جارہا ہے۔ یہ وہ قدیم درخت تھے جو شہر کے ماحول کے لئے ضروری تھے جن کو کاٹ کر ایک غیر ملکی پودا (کونو کار پس) نامی پودے کو بڑی اہمیت کے ساتھ اپنے گھروں اورمین روڈز پر لگا ئے جا رہے ہیں جہاں نظرڈالیں کونو کارپس پودا ہی نظر آتا ہے۔

بوتل پام(بدام ) کا درخت بھی ناپید ہوتا جار ہا ہے، زیادہ تر درخت بجلی کی تاروں کی وجہ سے بھی کاٹ دیے جاتے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

بوتل پام(بدام ) کا درخت بھی ناپید ہوتا جار ہا ہے، زیادہ تر درخت بجلی کی تاروں کی وجہ سے بھی کاٹ دیے جاتے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

کچھ عرصہ پہلے کراچی شہر میں نیم ، پیپل ، بوتل پام(بدام)، بیر ، جنگل جلیبی ،جامن وغیرہ کے درخت کثرت سے پائے جاتے تھے،اب یہ درخت نا پید ہوتے جا رہے ہیں۔
دراصل یہ درخت کئی سالوں میں بڑھتے ہیں اور جگہ بھی کافی گھیرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کر نا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اس کے علاوہ بھی کراچی شہر میں بہت بڑا مسئلہ صاف پینے کے پانی کا ہے، جہاں لوگوں کو پینے کا پانی مشکل سے دستیاب ہوتا ہو، وہاں انسان ان درختوں کی دیکھ بھا ل کیسے کر سکتا ہے۔

پانی کی کمی کی وجہ سے کراچی میں قدیم درخت سوخ چکے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

پانی کی کمی کی وجہ سے کراچی میں قدیم درخت سوخ چکے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

راؤعقیل کئی سالوں سے اپنی پودوں کی نرسری چلارہے ہیں ان سے بات کرتے ہوے انھوں نے بتا یا کہ آج کل لوگوں کازیادہ تر روجہان کونوکارپس اورپپیتے کے پودوں پر ہے، کونو کارپس ایک سال میں 12’فٹ سے لے کر 14’فٹ تک بڑھ جا تا ہے۔ اور جگہ بھی کم گھیر تا ہے۔اور کچرا بھی کم کرتا ہے۔ دوسرا پپیتے کا پودا بھی کا فی لوگ اپنے گھروں پر لگا رہے ہیں۔پپیتہ لگانے کی زیادہ تر وجہ ڈینگی بخارہے۔ اور اب پپیتے کا پودا تھائی لینڈ سے بھی منگواکر لگا یا جا رہا ہے۔تھائی لینڈ کا پپیتا ایک سال میں 4-5’فٹتک جا تا ہے اور پھل بھی دیتا ہے۔ اور اس کے پتے ڈینگی جیسے بخار میں بھی کام آجاتے ہیں۔

راؤعقیل کئی سالوں سے اپنی پودوں کی نرسری چلارہے ہیں، ان سے پورانے درختوں کے بارئے میں پوچھا تو انھوں نے کہ کہ لوگوں کی دلچسپی کی وجہ سے ہم بھی کونوکارپس کی افزائش نسل زیادہ کرتے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

راؤعقیل کئی سالوں سے اپنی پودوں کی نرسری چلارہے ہیں، ان سے پورانے درختوں کے بارئے میں پوچھا تو انھوں نے کہ کہ لوگوں کی دلچسپی کی وجہ سے ہم بھی کونوکارپس کی افزائش نسل زیادہ کرتے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

 جب ہم نے ان سے نیم ، پیپل ، بوتل پام(بدام)، بیر ، جنگل جلیبی جیسے درختوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتا یا کہ ان درختوں کے تیار کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ اور یہ درخت جگہ بھی کافی گھیرتے ہیں۔اور ان کو بٹرے ہونے میں کئی سال درکار ہوتے ہیں۔اور گھروں میں صفائی کے لئے بھی کافی دشواری ہوتی ہے۔پہلے ہم ڈم ڈم نامی پودے سے گھروں کی دیواریں بنا یا کرتے تھے۔ کیوں کہ اب کونو کارپس نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ اس سے آسانی سے یہ کام ہو جاتا ہے۔

عاشق صاحب بھی کئی برس سے اپنی نرسری چلارہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ درختوں کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے نہیں کی جاراہی ہے پودوں کے لئے گڑر کا پانی استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہمارئے درخت نا پید ہوتے جا رہے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

عاشق صاحب بھی کئی برس سے اپنی نرسری چلارہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ درختوں کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے نہیں کی جاراہی ہے پودوں کے لئے گڑر کا پانی استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہمارئے درخت نا پید ہوتے جا رہے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

راؤ عقیل کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کھجور کے درخت میر پور خاص اور بلوچستان سے منگا کا لگوائے جا رہے ہیں لیکن ان درختوں کی منتقلی میں ان کی جڑوں کی خاص حفاظت نیہں کی جا تی ، جس کی وجہ سے زیادہ تر درخت لگانے کے بعد جل جاتے ہیں۔شہر میں کافی تعدا د میں درخت جلے ہوئے نظر آتے ہیں۔

DHAسوسائٹی نے اپنے علاقے سے گزرنے والے گندھے نالے کے دونوں اطراف کونو کارپس لگا رکھے ہیں جس سے نالے کی گندگی بھی نظر نہیں آتی اور یہاں کے رہنے والے رہاشیوں کو نالے کی گندگی اوربدبو سے بچایا جا سکے ۔ تصویر: محمد ایاز خان

DHAسوسائٹی نے اپنے علاقے سے گزرنے والے گندھے نالے کے دونوں اطراف کونو کارپس لگا رکھے ہیں جس سے نالے کی گندگی بھی نظر نہیں آتی اور یہاں کے رہنے والے رہاشیوں کو نالے کی گندگی اوربدبو سے بچایا جا سکے ۔ تصویر: محمد ایاز خان

عاشق صاحب ، بھی کافی عرصہ دراز سے اپنی نرسری چلا رہے ہیں۔ ان سے جب ان پودوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ گورنمنٹ کے اداروں کے توجہ نہیں ہے، جہاں بھی نیم ، پیپل ، بوتل پام(بدام)، بیر ، جنگل جلیبی جیسے پودوں کو کاٹا جا رہا ہے۔ کوئی روک ٹھوک نہیں ہے،عاشق کہتے ہیں لوگوں کو آجکل سستے اور جلدی بڑے ہونے والے پودے زیادہ پسند ہیں۔ زیادہ تر صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے بھی پودے خراب ہورہے ہیں۔ کیوں کہ ہم زیادہ تر گٹر کا گندہ پانی استعمال کر تے ہیں اسکی وجہ سے بھی پودے خراب ہو جاتے ہیں۔

تھائی لینڈ نسل کا پپیتے کا یہ پودا ایک سال میں 4-5'فٹ تک بڑا ہوتا ہے اور پھل بھی دیتا ہے، ڈینگی کی بیماری کی وجہ سے اب لوگوں نے اس کو گھروں میں زیادہ تعداد میں لگارہے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

تھائی لینڈ نسل کا پپیتے کا یہ پودا ایک سال میں 4-5’فٹ تک بڑا ہوتا ہے اور پھل بھی دیتا ہے، ڈینگی کی بیماری کی وجہ سے اب لوگوں نے اس کو گھروں میں زیادہ تعداد میں لگارہے ہیں ۔ تصویر: محمد ایاز خان

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>