u تھر کول منصوبہ، مقامی آبادی کے وجود کیلئے خطرہ | ٹی این این Share Button" />
Published On: Fri, Nov 25th, 2016

تھر کول منصوبہ، مقامی آبادی کے وجود کیلئے خطرہ

تھر میں لوگوں کی زندگی کا دارو مدار بارش اور پاتال کے پانی پر ہے اور اگر بارشیں نہ ہوں اور قحط سالی ہوجائے تو زیر زمین پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے نتیجے میں کنویں سوکھ جاتے ہیں۔ Photo by Amar Guriro

تھر میں لوگوں کی زندگی کا دارو مدار بارش اور پاتال کے پانی پر ہے اور اگر بارشیں نہ ہوں اور قحط سالی ہوجائے تو زیر زمین پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے نتیجے میں کنویں سوکھ جاتے ہیں۔
Photo by Amar Guriro

ریاض سہیل

آخر بھیمراج راضی کیوں نہیں ہوتا؟ سندھ حکومت، اینگرو کمپنی اور تھرپارکر کی انتظامیہ کے لیے وہ سرد کا درد بنا ہوا ہے اور تاحال کوئی بھی میٹھی، کھٹی گولی یا دھونس دہمکی اس کو خاموش نہیں کرسکی ہے۔

تھر کے گاؤں گوڑانو کا ایک استاد جس نے آس پاس کے علاقے کے لوگوں کو اکٹھا کرکے اس ڈیم کی مخالفت میں تحریک چلائی جہاں اینگرو کمپنی بلاک نمبر دو سے خارج کیے جانے والا پانی ذخیرہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ان گاؤں کے متاثرین کا سادہ سا مطالبہ ہے کہ اس ذحیرے کی جگہ تبدیل کی جائے کیونکہ اس سے ان کے جینے کے وسائل یعنی زمینیں ، چراگاہ اور ترائی چھن جائیں گے۔

بلاک نمبر 2 میں اس وقت کوئلے تک رسائی کے لیے تیزی کے ساتھ کھدائی کا کام جاری ہے اور اس تیزی کی وجہ جون 2019 تک اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کا ٹارگٹ ہے۔ بصورت دیگر اینگرو کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ یہ منصوبہ ویسے تو حکومت سندھ اور اینگرو کا مشترکہ ہے لیکن اس میں فیصلہ سازی کا اختیار اینگرو کو حاصل ہے۔

کوئلے تک رسائی سے قبل پانی کے تین سطحوں سے گذرنا ہے، تیسری سطح ہی سب سے بڑا چیلینج ہے، یہاں پانی کسی دریا کی بھاؤ کی صورت میں موجود ہے اور اس سے گذر کر ہی کوئلہ نکالا جاسکتا ہے۔ اینگرو نے اس پانی کی نکاسی کے لیے جرمن ماہرین کی مدد حاصل کی ہے ۔

بلاک نمبر 2 میں اس وقت کوئلے تک رسائی کے لیے تیزی کے ساتھ کھدائی کا کام جاری ہے اور اس تیزی کی وجہ جون 2019 تک اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کا ٹارگٹ ہے۔ Photo by Amar Guriro

بلاک نمبر 2 میں اس وقت کوئلے تک رسائی کے لیے تیزی کے ساتھ کھدائی کا کام جاری ہے اور اس تیزی کی وجہ جون 2019 تک اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کا ٹارگٹ ہے۔ Photo by Amar Guriro

اینگرو حکام کے مطابق یہ پانی 35 کیوسکس یومیہ خارج کیا جائے گا جو ذخیرہ ہوگا، اس پانی کی پہلے رن آف کچھ میں موجود سالٹ لیکس یا لون کھان میں نکاسی کا فیصلہ ہوا تھا لیکن یہاں رامسر سائیٹ ( 1970 میں ایران کے شہر رام سر میں ایک معاہدہ طئے پایا تھا جس میں پانی کی قدرتی جھیلوں اور تالابوں کی نشادھی کی گئی جہاں جنگلی حیات کی نشونما ہوتی ہے اور وہاں ان تحفظ فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا) اور بھارت کے اعتراض سامنے آنے کو مد نظر رکھ کر یہ فیصلہ ملتوی کردیا گیا اس کے بعد ماہرین کی نظر گوڑانو پر پڑیں ۔ یہ پیالے نما قدرتی علاقہ ہے جو بھٹوں کی گود  میں واقع ہے اس جگہ کا فوری انتخاب کرلیا گیا اور یہاں تقریبا 1500 ایکڑ  پر یہ پانی کا ذخیرہ تعمیر کیا جائے گا۔

یہ جگہ اینگرو کو کم لاگت پر زیادہ فائدہ فراہم کر رہی ہے، اگر اتنی بڑی ایراضی پر ڈیم تعمیر کیا جائے تو اس کی لاگت بہت زیادہ آسکتی ہے دوسرا یہاں زمین کی سطح نیچے ہے جس کی وجہ سے پمپ مشین استعمال کیے بغیر پانی باآسانی یہاں پہنچ سکتا ہے۔ یہ پانی پائپ کے ذریعے پہنچایا جائے گا جس کا ٹھیکہ اسی کمپنی کو دیا گیا ہے جس کے پاس پہلے ہی آر پلانٹس اور سولر ٹیوب وہیل لگانے سمیت کئی دیگر منصوبوں کی تعمیر موجود ہے۔

اینگرو کے منصوبے سے تقریباً 27 کلومیٹر دور واقع گوڑانو گاؤں اور آس پاس کے لوگ ناراض ہیں۔ نوجوان بھیم راج کے مطابق اس علاقے میں دس کے قریب گاؤں ہیں جبکہ 2700 ایکڑ لوگوں کی ذاتی زمین ہے اینگرو یہاں زبردستی ڈیم بنانا چاہتی ہے، حالانکہ یہ علاقے کول ایریا میں بھی نہیں آتا اور نہ ہی انھیں الاٹ کیا گیا ہے۔

بقول ان کے لوگوں کے گزر بسر اور آمدنی کا وسیلہ صرف یہ زمین ہے، انہوں نے انھیں دیگر مقامات بھی تجویز کیے ہیں لیکن وہ بضد ہیں کہ اسی مقام پر وہ کھارے پانی کی جھیل بنائیں گے۔ اس علاقے میں زمینیں تو دیگر لوگوں کی بھی متاثر ہو رہی ہیں لیکن بھیل اور مینگھواڑ کمیونٹی زیادہ سرگرم ہے دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بلاک نمبر 2 میں بھی متاثرین کی 40 فیصد آبادی بھیل کمیونٹی کی ہے لیکن انہیں کوئی بلاتا ہے اور نہ ہی کوئی سنتا ہے۔

گوڑانو میں پانی کی جھیل کی نشاندھی اینگرو کے ماہرین نے کی تھی اور اب معاملات صوبائی حکومت کے حوالے کردیئے گئے ہیں، لوگوں سے مذاکرات کے لیے مقامی ایم پی اے مہیش ملانی اور ڈاکٹر  کھٹو مل پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہاں صرف 532 ایکڑ نجی زمین ہے باقی سرکاری زمین ہے جو ایک سال کی لیز پر دی گئی تھی۔ نجی زمین کے متاثرین کو 2 لاکھ 20 ہزار رپے اور سرکاری زمین کے متاثرین کو 50 ہزار رپے کی پیشکش کی جارہی ہے۔

ایک سرکاری استاد بہیم راج کی زیر نگرانی متاثرین کا احتجاج سلام کوٹ، مٹھی سے ہوتا ہوا احتجاجی تحریک کے ساتھ کراچی پہنچا، جہاں صوبائی وزیر نثار کھوڑ اور مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی نے پریس کلب پر ان سے ملاقات کی۔ مقامی میڈیا نے تو کچھ قدر ان کے خدشات رپورٹ کیے تھے لیکن  وہ کراچی میں قومی میڈیا تک یہ خدشات لانے میں کامیاب ہوگئے تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے بجائے کیمپ پر آنے کے متاثرین کو اپنے پاس بلاکر انہیں سنا جبکہ نصرت سحر عباسی نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ سندھ اسمبلی میں اس پر احتجاج رکارڈ کرائیں گی۔ ان کے علاوہ قومی مزدور کسان پارٹی یا قوم پرست جماعت نے یہاں کا رخ نہیں کیا حالانکہ مجھ یہ بھی معلوم ہے کہ متاثرین نے انسانی حقوق کمیشن سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن آخر دن تک کوئی نہیں آیا تھا۔

متاثرین کی درخواست پر ڈاکٹر کھٹو مل نے ان کی ملاقات وزیر اعلیٰ  سید مراد علی شاہ سے کرائی لیکن بھیم راج اپنی بات پر قائم رہے کہ اس پانی کے ذخیرے کی جگہ تبدیل کی جائے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ جن کے پاس ہی توانائی کا قلمدان موجود ہے انہیں فی گھر ملازمت کی بھی پیشکش کردی لیکن وہاں بھی معاملات کامیاب نہیں ہوئے۔

تھر میں کوئلے کے بارہ بلاک ہیں جن میں سے ایک ڈاکٹر ثمبر مبارک کو تجربے کے لیے دیا گیا جبکہ دوسرا اینگرو کے پاس ہے، یعنی دیگر کمپنیاں بھی اینگرو کے قدموں پر چلتے ہوئے آگے آئیں گی لوگوں اور ماحول کے ساتھ اینگرو کا جو بھی برتاؤ ہوگا دیگر کمپنیاں بھی اسی کی پیروی کریں گی۔

اس منصوبے کے لیے انوائرمنٹ اسیسمنٹ کی گئی جو بلاک نمبر دو کے علاقے پر مشتمل ہے حالانکہ اس منصوبے کے لیے دریائی پانی پہنچانے کے لیے جو لائن بچھائی گئی اور ذخیرہ بنائے گئے وہ اس اسیسٹمنٹ میں شامل نہیں اور نہ ہی جس پائپ لائن کے ذریعے پانی کی نکاسی کی جائیگی اور یہ پائپ جہاں جہاں سے گذرے گا وہاں زمین مالکان کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔  موجودہ وقت کئی بار سڑکیں اور پائپ کا رخ تبدیل ہوچکا ہے جس سے مقامی لوگوں کی زمینیں متاثر ہو رہی انہیں معاوضے کی ادائیگی تو دور کی بات ترایوں کا نشان مٹا دیا گیا۔  اس سے قبل کول فیلڈ تک راستے کی تعمیر میں ٹھیکیدار کمپنیوں نے لوگوں کی زمینیوں سے سڑکیں نکالیں لیکن کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔

کراچی کے ساحل سمندر پر مہنگے ترین شاپنگ پلازہ کے ایک حصے میں واقع اینگرو کے دفتر میں اینگرو کے ایک اہم افسر نے مجھ ” حقائق سمجھاتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ جس طرح اینگرو کوئلے تک رسائی کے لیے زیر زمین 35 کیوسکس پانی یومیہ خارج کرے گی اسی طرح آنے والے دیگر کمپنیاں بھی تقریبا اتنا ہی پانی خارج کریں گی انہیں بھی ذخیرہ کرنے کے لیے تالاب بنانا ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ کہ مزید لوگوں کی زمینوں سے پائپ اور سڑکیں گذریں گی۔ اینگرو کا موقف ہے کہ پہلے تالاب میں یومیہ 35 کیوسکس پانی ڈالا جائے گا بعد میں اس کو 25 کیوسکس تک لایا جائے گا اور تین سال بعد صرف 8 کیوسکس اضافی پانی اس مجوزہ جھیل میں جائے گا باقی پانی وہ پاؤر پلانٹ میں آر پلانٹ کے ذریعے صاف کرکے استعمال کریں گے۔

اب یہ کوئی عربی فارسی یا راکٹ سائنس نہیں کہ تھر میں لوگوں کی زندگی کا دارو مدار بارش اور پاتال کے پانی پر ہے اور اگر بارشیں نہ ہوں اور قحط سالی ہوجائے تو زیر زمین پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے نتیجے میں کنویں سوکھ جاتے ہیں۔ جس طرح پچھلے سالوں میں ہوچکا ہے۔ اب اگر بجلی منصوبوں کے لیے اگر اتنی بڑے مقدار میں زیر زمین پانی کی نکاسی ہوگی تو کیا وہاں زمینی سطح پر کسی درخت یا پودے کا وجود رہے پائے گا۔  کیا لوگوں اور جانوروں کو پینے کا پانی دستیاب ہوگا۔  بنا درخت اور پانی کے وہاں مور سمیت دیگر چھوٹے بڑے پرندے بقا حاصل کرسکیں گے۔ اپنے ثقافت، روایت اور سماجیات کی وجہ سے منفرد اس خطے کے لوگ یہاں ٹک پائیں گے؟

 گوڑانو کے آس پاس ایک بڑی تعداد میں درخت موجود ہیں جو اب نہیں رہیں گے اسی طرح جیسے کول فیلڈ جانے والی سڑک پر نہیں رہے یا بلاک 2 میں کٹائی کا شکار ہیں۔ Photo byAmar Guriro


گوڑانو کے آس پاس ایک بڑی تعداد میں درخت موجود ہیں جو اب نہیں رہیں گے اسی طرح جیسے کول فیلڈ جانے والی سڑک پر نہیں رہے یا بلاک 2 میں کٹائی کا شکار ہیں۔
Photo byAmar Guriro

اینگرو کی میڈیا پبلسٹی کے شعبے کے ایک نوجوان نے مجھ کہا تھا کہ سندھ اور بلوچستان کے لوگ ترقی کے مخالف ہیں میں نے اس سے کہا تھا کہ دیکھنے کی یہ ضرورت ہے کہ وہاں کے لوگ اس ترقی کا حصہ ہیں یا اس ترقی پر ہونے والی تباہ کاری میں ان کا حصہ زیادہ ہے۔ اسٹیل ملز، بن قاسم پورٹ سمیت سندھ بھر میں سیمنٹ فیکٹریز، شگر ملز جب لگیں تو کیا اس وقت لوگوں نے محالفت کی تھی۔ اگر کالا باغ ڈیم اور ذوالفقار آباد اور تھر کوئلے سے لوگوں کی شناخت خطرے میں پڑ جائے تو وہ اس ترقی کا کیا کریں یہ مسئلہ بلوچستان کا بھی ہے جہاں لوگ اس خود ساختہ ترقی کے بجائے اپنی شناخت اور اپنے وسائل پر اپنا حق مانگتے ہیں۔

گوڑانو کے آس پاس ایک بڑی تعداد میں درخت موجود ہیں جو اب نہیں رہیں گے اسی طرح جیسے کول فیلڈ جانے والی سڑک پر نہیں رہے یا بلاک 2 میں کٹائی کا شکار ہیں۔ اینگرو نے درخت کے بدلے درخت لگانے کے لیے فیلڈ سے باہر ایک فارم ہاؤس لگایا ہے جس میں ایک بڑی تعداد غیر مقامی اور بنا فروٹ درختوں کی ہے جہاں مقامی نہیں آتے ۔ جس روز ہم  وہاں گئے تھے تو اس روز لگتا تھا کہ کئی روز سے ان پودوں کو پانی نہیں دیا گیا۔ وہ درخت کو صحرا میں چلتے لوگوں کے لیے چھپر چھانو تھا جو پرندوں کا آشیان تھا اس کی وہ حیثیت رہی یا وہ صرف ایک فارم ہاؤس کا سبز درخت ہے، جس کی صرف گنتی کی جاسکتی ہے۔

اینگرو کے دفتر کے باہر  لوگوں کو میں نے خود روزگار کے لیے صدا لگاتے ہوئے دیکھا، وہاں موجود جی ایم سید مرتضیٰ اظہر رضوی نے مجھے بتایا تھا کہ اگر 300 سے زائد لوگ کام کر رہے ہیں تو ان میں جتنے بھی ڈمپر ڈرائیورز ہیں وہ مقامی ہیں۔ جنہیں این ایل سی سے ڈرائیونگ کی تربیت دلوائی گئی ہے۔

یہاں مقامی کا مطلب بلاک 2 ہے  یعنی پورے تھر سے اعلیٰ عہدوں پر کمپنی کو کوئی موزروں لوگ دستیاب نہیں حالانکہ مہران یونیورسٹی ہر سال جو انجنیئر پیدا کر رہی ہے ان میں تھر کے رہائشیوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ اب جن منصوبوں سے تھری کو روزگار نہیں مل رہا اس کا وجودہ ثقافت خطرے میں پڑ رہا ہے اس کی وہ حمایت کیسے کرے۔ اینگرو کے اعلیٰ افسر کا بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ اس منصوبے کی مخالف ملک دشمن ہیں یا کریں پنجاب کے حکومت اور سیاست دانوں کی بات جب کبھی سندھ نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی یہ بیان سننے کو ملتا تھا۔

بات سادھا سی ہے اگر میں شگر ملز لگا رہا ہوں تو یقینن میں کاروبار کرنا چاہتا ہوں یا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ملک میں لوگوں میں گلوکوز کی کمی ہے جو میں دور کرنا چاہتا ہوں اور اس منصوبے کی جو بھی مخالفت کرے گا وہ ملک دشمن ہے۔ اسی طرح کراچی کے باہر  جو رہائشی منصوبے بن رہے ہیں وہ یہاں کے لوگوں کو  بہترین رہائش فراہم کریں گے اور اس کی مخالفت بھی ملک دشمنی ہے کیونکہ  پر آسائش گھروں میں رہے کر لوگ زیادہ مفید سوچ سکتے ہیں اور اس منصوبے کی مخالفت کرکے ہم اس سے ان کو محروم کریں گے۔

بھائی آپ کاروبار کر رہے ہیں خدا  واسطے تو بجلی بناکر نہیں دے رہے اور نہ ہی اس سے پہلے آپ کے جو کھاد کا منصوبہ ہے اس سے مفت تقیسم کی ہے۔ بھائی آپ نے اپنی مرضی سے ریٹ طئے کیے ہیں اور معاہدے کیے ہیں۔ اگر بھیم راج  آپ سے یہ بزنس کرنے کے لیے تیار نہیں تو یہ اس کا حق ہے۔ وہ اقلیتی شہری ہے اب آپ اس کو یہ بتاکر خاموش کردیں گے گہ یہ منصوبے اب سی پیک کا حصہ ہے اور آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ بہت جلد اس کی حفاظت کے لیے خصوصی برگیڈ پہنچ جائیگی۔ پھر آپ کو دوبارہ مزاحمت تحریکوں کو پڑہنا ہوگا۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>