u کراچی کا کچرا، ساحلی بستیوں کے لیے وبال | ٹی این این Share Button" />
Published On: Wed, Sep 21st, 2016

کراچی کا کچرا، ساحلی بستیوں کے لیے وبال

کراچی:
بلاگ: ماریہ اسماعیل

دنیا میں سمندر کنارے ممالک اور شہروں کی خوبصورتی تصور کئے جاتے ہیں، لیکن ہمارے ملک کے صوبہ سندھ میں 129 کلومیٹر طویل ساحل سمندر پر گندگی اور قبضوں کا سلسلہ شروع ہوگیاہے۔ اس سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں سے بڑے پیمانے پر گندگی اور کچرے سے بھری گاڑیوں کا ابراہیم حیدری کے ساحل سمندر پر گندگی پھینکنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں وبائی امراض پھوٹ پڑنے اور سمندر میں مچھلی کے مرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔اس موقع پر دی نیچر نیوز ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے فشرفورک فورم کے عبدالمجید موٹانی،فاطمہ مجید اور ایوب شان نے بتایاکہ یہاں ساحل سمندر پر گندگی پھینکنے کا سلسلہ گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے ۔لیکن حالیہ دو ہفتوں کے دوران یہ سلسلہ زور پکڑ گیا ہے۔ گندگی کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی اور وبائی امراض بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری وڈیروں کی طرف سے ساحل سمندر پر گندگی پھینک کر غیر قانونی جیٹیاں تعمیر کرنے کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چشمہ گوٹھ کے قریب لٹھ بستی کے وڈیرے کی طرف سے ساحل سمندر پر دیواریں کھڑی کر کے بڑے پیمانے پر قبضہ کر کے نیو سی ویو کے نام سے پکنک پوائنٹ تعمیر کی گئی ہے، جہاں پیسوں کے عیوض نوجوان جوڑوں کو سرعام غیر اخلاقی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ساحل سمندر پر وڈیروں کی طرف سے قبضوں کا سلسلہ جاری رہا ۔تو وہ دن دور نہیں جب پورا کراچی شہر ماحولیاتی آلودگی کی بھیڑ چڑھ جائیگا اور سمندر جھینگے و مچھلی جیسی نعمت سے خالی ہوجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر قبضہ گیری اور گندگی پھیلانے کے باوجود بھی محکمہ ماہی گیری، محکمہ ماحولیات اور ضلع کونسل ملیر کے نومنتخب چیئرمین سمیت پولیس عملدار مذکورہ تمام صورتحال سے بے خبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ صورتحال پر مقامی ماہی گیروں میں شدید تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے دی نیچر نیوز ڈاٹ کام کی توسط سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ ساحل سمندر پر قابض اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے سمندری وڈیروں کیخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس