u پلاسٹک کی تھیلیوں نے بھی بلوچستان کو نہیں بخشا | ٹی این این Share Button" />
Published On: Thu, Jul 14th, 2016

پلاسٹک کی تھیلیوں نے بھی بلوچستان کو نہیں بخشا

بلوچستان کے بڑے شہر کوئٹہ میں ماحول دشمن پولیتھین بیگ کے استعمال سے آلودگی میں اضافہ

بلاگ: شبیر رخشانی

کوئٹہ، بلوچستان :
پلاسٹک کے تھیلے یا پولیتھین بیگ کو عالمی سطح پر ناقابل استعمال قرار دیا جا چکا ہے۔ لیکن اسکا متبادل ذریعہ دریافت نہ کرنے کی وجہ سے اب یہ ہمارے معاشرے کا لازمی جز بن چکا ہے۔کہتے ہیں کہ جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو اس وقت پلاسٹک بنانے والی کمپنیاں مشرقی پاکستان کے حصے میں چلی گئی۔

تو موجودہ پاکستان میں پلاسٹک کے بیگ کی جگہ کپڑے، کاغذ، مزری کے ٹھوکری استعمال میں لائے جانے لگے۔ بعد میں جب کاروباری مافیا نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس ملک میں یہ بڑا کاروبار بن سکتا ہے تو انہوں نے پلاسٹک کے بیگ کی کمپنیوں کا وجود عمل میں لایا۔۔ غالباً یہ سب کچھ 1980کی دہائی میں ہونے لگا۔جو اب ایک مکمل انڈسٹریلائزیشن بن چکی ہے۔ ہزاروں لوگوں کا کاروبار اسی صنعت سے وابسطہ ہو چکی ہے۔ حکومتی یا عدالتی سطح پر گو کہ اس پر پابندی لگانے کی بارہا کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن اسکے ختم کرنے کے لئے عملداری قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں۔ اس میں دو باتیں سامنے آجاتی ہیں یا تو اس میں ایک بڑی مافیا سرگرم عمل ہے جسکی وجہ سے یہ پابندیاں انکے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہیں یا کہ اسکے متبادل ذرائع حکومتی سطح پر موجود نہیں جس سے عوام کو چھٹکارا مل جائے۔

پلاسٹک کے تھیلے کا خریدار وہ دوکاندار ہیں جو اپنی گاہکوں سامان اسی میں پیک کرکے دیتے ہیں۔ نہ گاہک کو پتہ چلتا ہے کہ اس سے ماحول اور خود انکی صحت پر کتنا اثر پڑ رہا ہے اور نہ ہی دوکاندار کو اسکی خامی کا پتہ ہوتا ہے۔ ماہرین اسی پلاسٹک کے تھیلوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ وہ شے ہے جسے گل سڑنے میں وقت لگتا ہے اگر اسے زمین کے اندر دفنا دیا جائے تو بھی اسے ہزاروں سال لگتے ہیں مٹی کے ساتھ مکس ہونے میں۔ تو لوگ کیا کرتے ہیں کہ اسی پلاسٹک کے تھیلے کو جلاتے ہیں۔ جس سے نہ صرف سانس کی بیماریاں پھیل جاتی ہیں۔ بلکہ اسکی کیمیکل شدہ دھویں سے لوگوں کو کینسر کا مرض بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ لیکن انکے پاس متبادل کے طور پر اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اسکو جلا لیں ۔پچھلے زمانے میں پلاسٹک کی تھیلی کی جگہ کاغذ یا کپڑے کے تھیلے ہوا کرتے تھے جس کی بعد میں کپت ہوگئی اور وہ سلسلہ رک گیا۔پلاسٹک کا تھیلا رواج پا گیا جو اب نہ رکنے والا ہے اور مستقبل قریب میں امکان بہت کم پایا جاتا ہے کہ حکومتی پالیسیاں اسکی روک تھام کے لئے کارگر ثابت ہوں۔ کیونکہ حکومتی سطح پر نہ پلاسٹک کے تھیلوں کی جگہ کوئی متبادل ذریعہ موجود ہے اور نہ ہی حکومت ان ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کر سکتی ہے جنکا ذریعہ معاش اسی انڈسٹری سے وابسطہ ہے۔ یہ کاروبار کافی حد تک پھل پھول چکا ہے۔
آئیے بلوچستان کی مثال لیتے ہیں پورے بلوچستان کو چھوڑ کر کوئٹہ شہر کی مثال لیتے ہیں۔کوئٹہ شہر میں پلاسٹک کے تھیلے کا کاروبار بھی خوب پھیلتا جا رہا ہے۔ مشرقی بائی پاس، مسجد روڑاور کوئٹہ شہر کے گردونواح میں بڑے گودام بنے ہوئے نظر آتے ہیں جو پورے کوئٹہ شہرکی دکانداروں کو پلاسٹک کے تھیلے سپلائی کرتے ہیں۔کوئٹہ شہر جسکی آبادی اب 30لاکھ کے آس پاس ہے۔ اگر یہاں کا ہر مکین روزانہ ایک ایک پلاسٹک استعمال کرے تو روزانہ کی بنیاد پر استعمال میں لائے جانے والے پلاسٹکوں کی تعداد 30لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اگر اسی تواتر سے پلاسٹک کا استعمال ہوتا رہے تو ماہانہ یہی تعداد 9کروڑ اگر سال کا حساب لگا لیں تو ایک ارب تک جا پہنچے گی ہوئی نہ چانکا دینے والی بات۔ پھر اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ کچہرہ کہاں جمع ہوتی ہے اسکی ریسائیکلنگ کیسے ہوتی ہے۔ آبادی کو اس سے تحفظ فراہم کیسے کیا جا سکتا ہے کوئی منصوبہ بندی اور نہ ہی پالیسی حکومت کے پاس نظر آتی ہے۔ جس سے ان اسباب کا حل ڈھونڈا جائے۔ انہیں یا تو بڑے بڑے میدانوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ جہاں گندگی کا ڈھیر بن کر فضا اور ماحول کو آلودہ بناتے ہیں یا ہلکا پن ہونے کی وجہ سے یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتے ہیں یا تو زمین پر جمع شدہ پانی میں جمع ہوکر ماحولیاتی آلودگی پھیلاتا ہے یا گٹر لائن یا سیوریج لائن کے ساتھ مکس ہوکر انہیں بند کر دیتا ہے اور نتیجہ گٹر کا پانی زمین پر آلودگی پھیلاتا ہوا۔۔۔ یا تو اسے جلایا جاتا ہے۔ پلاسٹک کا یہ کیمیکل دھواں ہوا میں تحلیل ہوکر صحت کو نقصان پہنچانے والی کاربنڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی کو برقرار رکھتا ہے۔ کوئٹہ کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث بارشوں کا نقل و حمل بھی رک چکا ہے۔ اگر بارشیں ہوں بھی تو اس میں ایسڈ شامل ہوتا ہے جو ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچانے کے لئے کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔
اب یوں گماں ہوتا ہے کہ یہ پلاسٹک کے تھیلے دکاندا ر اور گاہک کے لئے لازم و ملزوم ہوچکے ہیں۔پہلی بات یہ کہ کوئٹہ شہر میں پلاسٹک کے تھیلے کی کمپنیاں موجود ہی نہیں۔ اگر کمپنیاں موجود نہیں تو یہ پلاسٹک آتا کہاں سے ہے؟؟؟ جی ہاں یہ پلاسٹک ایران، کراچی اور لاہور سے مال بردار گاڑیوں کے ذریعے سے کوئٹہ شہر کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ پھر آپ سوچیں گے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، کسٹم اور دیگر ادارے کہاں سوئے ہوئے ہوتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں پلاسٹک کوئٹہ شہر کو سپلائی کی جاتی ہے جو یقیناًان اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو حکومت اور عوام دونوں اپنی زمہ داریوں سے مبرا نظر آتے ہیں۔ حکومتی اقدامات بہت کم نظر آتے ہیں۔ اگر اتنی حساب سے پلاسٹک استعمال میں لایا جارہا ہے تو اسکے ریسائیکلنگ کے لئے حکومت کے پاس کوئی میکنزم موجود نہیں۔ حکومتی سطح پر بازاروں، گلیوں میں کوڑے دان بھی نظر نہیں آتے نہ ہی جگہ جگہ پڑے کچہرے کے ڈھیر کو اٹھانے کا کوئی انتظام اور نہ ہی کوئی لائحہ عمل یا پالسی بنتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگرعوام کی بات کریں تو عوام نے جہاں کوئی خالی جگہ دیکھی ادھر ہی کچہرہ پھینکا۔ پلاسٹک کا بے جا استعمال بھی۔ اگر ایک شخص جس نے سودا سلف لینا ہوتا ہے تو اسکے ہاتھ میں دس سے بارہ پلاسٹک کے تھیلے نظر آرہے ہوتے ہیں جنکو صرف پانچ منٹ کے استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ہماری ناسمجھی کا یہ عالم دیکھے کہ سمندر کے کنارے پکنک منانے والے افراد واپسی کا رخ کرتے ہوئے انہی پلاسٹک کو اٹھانے سے قاصر ہیں جو سمندر کے ساتھ شامل ہو کر سمندر مخلوقات کی غذا کے طور پر استعمال ہو کر انکی سانس کی نالیوں کو بند کرنے کا سبب بنتے ہیں۔جن سے انکی موت واقع ہو جاتی ہے۔
بلوچستان کے ادارہ ماحولیات کے پاس اس وقت مشرف دور حکومت میں بننے والی آرڈیننس موجود ہے۔ جس میں ہر قسم کی پلاسٹک بیگ پر پابندی عائد کی جا چکی تھی۔لیکن ادارے کے پاس وہ استعدادکاری موجود نہیں جس سے وہ اس مسئلے کو سلجھا سکیں۔ ایک ماہ قبل ادارے نے اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کے ساتھ مل کر مشرقی بائی پاس پر پلاسٹک کی گوداموں پہ چھاپہ مارکر بڑی مقدار میں پلاسٹک کے تھیلے برآمد کیے تھے اب ایک اور مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ اگر انھیں جلا ڈالا جائے تو ماحول کو نقصان پہنچے گا اگر اسے زمین دوز کر دیں تو کہیوں سال پڑا رہنے کے بعد یہ ویسے کے ویسے رہیں گے۔دوسری جانب پلاسٹک مافیا اتنا طاقتور ہے کہ میئر کوئٹہ نے انکے خلاف قانونی راستے اختیار کرتے ہوئے کاروائی کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن اب انہوں نے بھی چپ ساد لی ہے۔
انسانی ایجادات جنہوں نے انسانی زندگی میں بے شمار تبدیلیاں لائیں تو وہیں ان ایجادات نے انسانی مشکلات میں اضافہ بھی کر دیا۔ پلاسٹک بیگ کے روک تھام کے لئے ضروری چیز یہ ہے کہ پلاسٹک بیگ کی کمپنیوں پر پابندی عائد کرکے اس سے جڑے لوگوں کے لئے ذریعہ معاش کا انتظام پیدا کیا جا سکے۔ دوکانوں کے لئے ضرورت کے مطابق حکومتی سرپرستی میں کپڑے کے تھیلے بنائے جائیں۔ یا کہ سبزی فروٹ کی خریداری کے لئے ٹھوکریوں کا استعمال عمل میں لائی جائے۔ پلاسٹک کے کم استعمال سے ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ ماحولیاتی آلودگی، اسباب اور حل کے لیے عوامی سطح پر شعور و آگاہی کاکام کیا جائے۔

Share Button
Print Friendly

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس