u سون میان: عروج سے زوال تک | ٹی این این Share Button" />
Published On: Tue, Jul 26th, 2016

سون میان: عروج سے زوال تک

— فوٹو اختر حفیظ

— فوٹو اختر حفیظ

اختر حفیظ

       گوکہ پانی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا مگر پھر بھی یہ ہماری زندگی میں کئی رنگ بھر دیتا ہے، اور یہی رنگ اس وقت پھیکے پڑنے لگتے ہیں جب پانی کی قلت پیدا ہونے لگتی ہے۔ تبھی ہمیں اس بے رنگ پانی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ بے رنگ ہونے کے باوجود بھی اس کے بنا زندگی کتنی روکھی اور دشوار ہوجاتی ہے۔

        ان آنکھوں کے لیے اس سے بڑا درد کیا ہوگا جنہوں نے شام و سحر کسی دریا کو بہتے دیکھا ہو۔ اس بہتے ہوئے پانی کی گھن گرج سنی ہو۔ اس کی ٹھنڈک ہر پل محسوس کی ہو، پانی ہی ان کا اوڑھانا اور بچھونا ہو، اور دریا ان کا “ان داتا” ہو۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگر دریا کی لہروں کا زور تھم جائے، وہ کشتیاں جو دریا کے پانی میں تیرتی کئی نسلوں کو سنبھالتی رہی ہوں، وہ پانی کم ہونے کی صورت میں اگر ریت سے بھرے کنارے پر کھڑی سورج کی تپش میں جلنے لگیں، تو ایک ماہیگیر کی آنکھیں تو بہنے لگتی ہی ہیں مگر ان آنکھوں سے بہتا ہوا پانی دریا کے بہنے کے ضمانت نہیں ہوتا۔

— فوٹو اختر حفیظ

— فوٹو اختر حفیظ

سون میان دیارئے سندھ کے کنارے آباد ماہیگیروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ جو اب لطیف آباد کی یوسی نمبر 17 میں آتا ہے۔ سون میان کے بارے میں ایک مروج روایت یہ بھی ہے کہ وہاں کئی دہائیاں قبل اتنی وافر مقدار میں مچھلی شکار ہوتی تھی کہ ماہیگیر دولت سے مالا مال ہوتے گئے، ایسا کہا جاتا تھا کہ یہ میان سونا اگلتی ہے۔ جیسے ہی اس میان کا زوال ہوا تو اب اس کا نام بھی تبدیل ہو کر “نائچانی میان” پڑ گیا۔ نائچان ماہیگیروں کی ایک ذات ہے۔
میان سندھی زبان میں دریا کنارے اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پر مچھلی پکڑی جائے یعنی میان اہک ایسی شکار گاھ ہوتی ہے جہاں صرف مچھلی کا شکار ہوتا ہے۔

— فوٹو اختر حفیظ

— فوٹو اختر حفیظ

   سندھ میں سو سے زائد دریا کے کنارے ایسے مقامات ہیں جہاں پہ یہ میانیں قائم ہیں مگر اب ان کا حال بھی برا ہے۔ جو روزگار پانی سے جڑا تھا اب اس کے شکل تبدیل ہو چکی ہے۔
ویسے تو ملک کے شمالی علاقوں میں آئی ہوئی حالیہ بارشوں کی وجہ سے دریائے سندھ نے اپنے اندر کافی پانی سمو لیا ہے، جس سے سالوں سے دریا کے پیٹ میں قائم ریت کے ٹیلے بیہہ گئے ہیں مگر فقیر حمزہ کا کہنا ہے کہ دریا میں حالیہ آنے والا پانی ان کے لیے بہت کم ہے، کیونکہ اس پانی کی مقدار سے صرف دریا کے کنارے اپنی پیاس بجھاتے ہیں، مگر ان کے لیے بہتر پانی 150 فٹ ہوتا ہے۔ اور یہی پانی اگر مئی کے مہینے میں آتا تو مچھلی کی بہتر پیداوار ہوتی، جولائی میں آنے والا پانی ان کے حساب سے اتنا کارگر نہیں ہے۔

— فوٹو اختر حفیظ

— فوٹو اختر حفیظ

   ماہیگیر حمزہ فقیر دریا کنارے آباد گاؤں اسی گاؤں میں پیدا ہوا، جوان ہوا اور وہیں بوڑھا ہو گیا ہے۔ اس کی عمر اب ستر برس ہے۔ ستر سالا حمزہ کی بوڑھی آنکھوں نے دریا کے عروج و زوال دیکھے ہیں۔

       اس دن کئی ماہیگروں کی آنکھوں میں پانی کی چمک تھی، کنارون پر کافی عرصے سے کھڑی کشتیان سج گئیں، بادبان لگ گئے اور دریا میں اترتی کشتیاں دریائی ہوا سے کھیلتی آنکھوں سے اوجھل ہو رہیں، مگر ہر واپس لوٹنے والی کشتی میں بیٹھے ماہیگیر کی آنکھیں مایوس تھیں اور چہرے پہ ظاہر ہونے والے تاثرات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ ان کے پھینکے ہوئے جال میں پلہ مچھلی نہیں پھنسی ہے۔

       کنارے پہ پہنچنے والے ہر کشتی کے ناخدا سے یہی سوال ہوتا رہا “کیترو پلو ہتھ آیو” ( کتنا پلا ملا ہے) مگر ان کا جواب نفی میں تھا۔ اس دن جانے والی تمام کشتیاں مایوسیوں کے مجھدار میں گم ہوگئی تھیں کیونکہ کسی نے بھی مچھلی شکار نہیں کی تھی۔

       ان ماہیگروں کے لیے صرف دریا میں پانی آنا خوشی کی بات نہیں ہوتی بلکہ دریا میں مچھلی اگر اچھی مقدار میں ہو تو یہ پانی ان کے لیے خوشیوں کی بارات لاتا ہے۔

— فوٹو اختر حفیظ

— فوٹو اختر حفیظ

   ماہیگیر اسلم اپنے پرانے زمانے کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ “ہم نے وہ زمانے بھی دیکھے ہیں جب جال دھاگے سے بنا ہوا تھا اور اسے دریا میں ڈالتے ہی منوں کے حساب سے مچھلی ملتی تھی، تب بس ایک بار ہی جال دریا میں ڈالا جاتا تھا۔ جال بڑا ہوتا تھا جس میں سے چھوٹی مچھلیاں گزر جاتی تھیں تاکہ ان کے افزائش کا سلسلہ جاری رہے۔

       سون میان کے کنارے بہت سے مزدور مچھلی کو کاٹنے، بیچنے اور اسے نمک لگا کر ذخیرہ کرنے میں لگے رہتے تھے مگر اب دیکھیں ہو کا عالم ہے، کبھی کبھار ایک مچھلی پھنس جاتی اور کبھی تو ایک بھی نہیں ملتی”۔

— فوٹو اختر حفیظ

— فوٹو اختر حفیظ

    یہ سب ماہیگیر ان دنوں کو بھی بہت یاد کرتے ہیں، جب ان کی شادی بیاہ کی رسومات بھی ان کشتوں میں ہوا کرتی تھیں۔ بارات بھی ان کشتیوں میں جاتی تھی۔ یہ سون میان کے عروج کے دن تھے۔ اور آج یہ سب ماضی کا قصہ ہے۔ ان ماہیگیروں کے پاس اب ماضی کو یاد کرنے اور سون میان کے سونہری دؤر کو یاد کرکے آہیں بھرنے کے سوا کچھ بھی نہیں رہا۔

         ایک عام آدمی کے لیے دریائے سندھ میں آیا ہوا حالیہ پانی بہت زیادہ ہے اور سندھ حکومت کی نااہلی بھی ایک عام آدمی کو ڈبونے کے لیے کافی ہے۔ جسے ہر انتظام اس وقت یاد آتا ہے جب سیلاب اور بارشوں کا پانی نشیبی علاقوں، سندھ کے کچے اور شہریوں کو ڈبو دیتا ہے۔ اسی بہتے ہوئے دریا کو دیکھنے کے لیے آج بھی لوگ دریا کا رخ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دریا میں آیا ہوا پانی صرف چار دن کی چاندنی ہے۔ کچھ  عرصے بعد اس میں پھر سے ریت اڑے گئی اور پھر سے ریت کے ٹیلے چٹان کی صورت نمودار ہو جائیں گے۔

— فوٹو اختر حفیظ

— فوٹو اختر حفیظ

2010ع اور 2011ع میں آنے والے سیلاب کے بعد دریائے سندھ پچھلے سال اور پھر اس برس آباد ہوا ہے۔اس برس کی طرح پچھلے سال اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں اپنے چند صحافی دوستوں کے ساتھ کشتی میں بیٹھ کر سیر کو نکل پڑا۔ کشتی کے ناخدا عبدالرزاق نے جب کشتی دریا میں چلانا شروع کی اور جیسے ہی بادبان کھولا تو ایسا لگا جیسے چپو سے چلتی ہوئی کشتی کو موٹر لگ گئی ہو۔ نیلے آسمان تلے ہماری کشتی دریا کے مٹیالے پانی پہ رفتار پکڑتی گئی۔ اس وقت میں نے سوچا کاش ان ماہیگیروں کی زندگی کی کشتی کا بھی بادبان ایسا ہو کہ ان کی زندگی بھی تیز رفتار ہو جائے،  کیونکہ ہوا کافی تیز تھی۔ عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ جب دریا میں پانی نہیں ہوتا اور صرف ریت اڑتی ہے تو وہ مارکیٹ میں فارم سے خریدی وئی مچھلی بیچتے ہیں۔ دریا کے عروج کے دنوں میں وہ مچھلی کا شکار کرنے کے لیے بنا موٹر والی کشتی میں ٹھٹھ اور کھارو چھان تک جا چکا ہے، جہاں پر دریائے سندھ سمندر میں گرتا ہے اور دونوں پانیوں کا سنگم ہوتا ہے۔ مگر اب ایسا ممکن نہیں رہا، کیونکہ 1991 اور 1994 ع کے آبی معاہدوں کے بعد اب یہ مشکل ہو گیا ہے کہ کوٹڑی ڈائون اسٹریم میں پانی پہنچ سکے۔ اب یہ مناظر صرف سیلاب کے دنوں میں نظر آتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا اب تباہی کے دہانے پہ ہے۔ جہاں جھینگے کی افزائش ہوتی ہے۔ سمندر دریا کو دھکیلتا آگے بڑھ رہا ہے اور تمر کے جنگلات آہستہ آہستہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔  پلے کی افزائش بھی دریا کا پانی سمندر میں جانے کے بعد ہوتی ہے، جوکہ دریا میں پانی آنے کے بعد دریا کی جانب رخ کرتا ہے۔ اس بار بھی پلا مچھلی مارکیٹ میں تو پہنچی ہے مگر مقدار کم ہونے کی وجہ سے بہت مہنگی ہے۔

— فوٹو اختر حفیظ

— فوٹو اختر حفیظ

     سون میان میں نہ تو کوئی ڈھنگ کا بنیادی صحت مرکز ہے اور نہ ہی پکی سڑک، جب کہ یہ علاقہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے بالکل پاس ہی ہے۔ گاؤں  کے لوگ آج بھی کچے مکانوں میں رہتے ہیں۔ کچھ سال قبل جو سیلاب آیا تھا اس میں ان کے گھر بھی بیہہ گئے تھے۔ ان گھروں کو پھر سے تعمیر کیا گیا ہے۔ سون میان کے پرائمری اسکول میں بچے اس لیے اسکول نہیں جاتے کہ وہاں مقرر چار اساتذہ اس گاؤں  کے نہیں اور وہ شہری بابو ہیں۔ ان میں سے کچھ اساتذہ اپنا رکشہ چلاتے ہیں، اس لیے صرف بیس منٹ کے لیے اسکول کا درشن کرنے آتے ہیں مگر گاؤں والوں کا کہنا کے کہ بچوں کو سندھی میں تعلیم نہیں دی جاتی اور اساتذہ اردو میں پڑھاتے ہیں اس لیے وہ بچوں کو شہر کے ان قریبی اسکولوں میں بھیجتے ہیں جہاں سندھی زبان پڑھائی جاتی ہے۔  پینے کے پانی کے لیے بھی وہ ایک گڑھا کھود کر اس میں پانی جمع کرتے ہیں کیونکہ وہاں واٹر سپلائی کی سہولت نہیں۔
کناروں پہ کھڑی کشتیاں اس بار تو پانی کی وجہ سے مچھلی کے شکار کے لیے پانی میں اتری ہیں مگر پانی نہ ہونے کی صورت میں یہی کشتیاں ریت میں دفن ہو جاتی ہیں۔ دریا میں ڈبکیاں لگاتے بچوں کو ڈوبنے کا اس لیے کوئی خوف نہیں کہ دریا نے انہیں پالا بھی ہے سنبھالا بھی ہے۔

       دریا تو نام ہی بہتے ہوئے بہاؤ کا ہے مگر ان ماہیگروں کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ جس دریا نے ان کے دامن صدیوں سے خوشیوں سے بھرے ہیں اب وہ تیز بارشوں اور سیلابوں میں ہی بہتا ہے۔
وہ حلقے جو پانی کے بڑے ذخائر کے حامی ہیں انہیں اتنا ضرور سوچنا چاہیے کہ بہتے دریا میں عام لوگوں کے لیے خوشیاں اور ماہیگروں کے لیے زندگی پوشیدہ ہے۔ کیا وہ بوڑھے ماہیگیر حمزہ فقیر کی اس بات کو سمجھ سکیں گے کہ “صاحب جب بارش نہیں ہوتی اور دریا میں پانی نہیں آتا تو ہماری آنکھیں برستی ہیں۔”

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ یہ بلاگ خاص دی نچر نیوز ڈاٹ کام کے لیے لکھا ہے۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>