u بھورے ریچھ کے مسکن دیوسائی میں میلا، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تحفظات | ٹی این این Share Button" />
Published On: Thu, Jul 14th, 2016

بھورے ریچھ کے مسکن دیوسائی میں میلا، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تحفظات

اسٹاف رپوٹر
لاہور، پنجاب : ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اگلے ماہ دیوسائی میں منعقد ہونے والے “دیوسائی میلے “پرسخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے میلے دیوسائی کے قدرتی ماحول اور وہا ں کی جنگلی حیات کے لیے شدید نقصان داہ ثابت ہوگا۔

1993 میں دیوسائی کے میدان کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تاکہ یہاں کے قدرتی وسائل کے تحفط اورعلاقے میں معدومیت کے خطرے سے دوچاربھورا ریچھ کے لیے ایک محفوظ علا قہ مہیا کیا جاسکے۔اس اقدام کی بدولت 1993سے لے کر ابتک بھورا ریچھ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کوملا اور ان کی تعداد 19سے بڑھ کر 60 تک جا پہنچی ہے۔

ان کی تیزی سے کم ہوتی آبادی کے باعث بھورا ریچھ کی نسل کا شمارایشاء میں معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں کی فہرست میں اب بھی موجود ہے۔دیوسائی نیشنل پارک میں ان کی تعداد پاکستان ، افغانستان اور بھارت میں سب سے زیادہ ہیں ۔بھورا ریچھ جون سے لے کر اکتو برکے درمیان دیوسائی نیشنل پارک کے میدانوں میں خوراک کی تلاش کے غرض سے آتے ہیں اور سردیوں سے پہلے نیچے وادیوں میں چلے جاتے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطا بق اس نایاب نسل کو پہلے ہی انسانی آبادیوں اور سرگرمیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامناہے اور دیوسائی میلے جیسے تقریبات کا ان کے مسکن کے قریب منعقد کیے جانے سے ان کیآبادی پر منفی اثر پڑے گا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان International Union for Conservation of Nature (IUCN) کی جنگلی حیات کے لیے محفوظ علاقوں کی تعریف کو تسلیم کرتا ہے جوکہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مخصوص علاقوں مثلا نیشنل پارک میں قدرتی ماحول اور اس سے منسلک جنگلی حیات کے تحفظ میں رکاوٹ حائل کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے ۔

رب نواز ، سینئر ڈائریکٹر پروگرامز، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق ” دیوسائی نیشنل پارک جیسے علاقے وہاں پر رہنے والوں لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کو برقراررکھنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کوچلانے کے لیے ایک جامعہ اورمربوط پالیسی تشکیل دی جا ئے ۔ “ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جبکہ اقوام متحدہ دنیا بھر میں Sustainable Development Goals کے ذریعے ماحول دوست سیاحت کو ترجیح دے رہا ہے توایسا پاکستان میں ممکن کیوں نہیں ؟”

دیوسائی نیشنل پارک بھورا ریچھ کے ساتھ ساتھ برفانی چیتا ، بھوری رنگ کا بھیڑیا ، سائبیرین آئی بیکس، سرخ لومڑی اور 124کے قریب مقامی اور مہمان پرندوں کے لیے ایک محفوظ مسکن ہیں ۔

اس میلے کے انعقاد سے نا صرف جنگلی حیات متاثر ہونگی بلکہ سیاحوں کے ہجوم سے نیشنل پارک میں موجود نایاب پودوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ، نے ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا، ” میلے میں سیاحوں کی بڑی تعداد کی شرکت سے وہاں کے قدرتی ماحول کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ہم میلے کے دوران پودوں کا کچلے جانے کے خدشے کو رد نہیں کر سکتے ۔ایک بار جو پودا کچلا جائے اس کی بحالی میں بہت وقت درکار ہوتا ہے ۔ “

گزشتہ سال بھی گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت نے دیوسائی میں میلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا ، تاہم اس کو بعد میں منسوخ کر دیا گیا ۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email
Displaying 1 Comments
Have Your Say
  1. Altaf says:

    Agreed protecting wildlife and related eco-systems contribute for wellbeing of human being, and help reduce natural calamities. Conscious efforts and careful planning is crucial to reduce negative impacts of such events. I am wondering why these environmental and conservation activists are in mute mode on loss of biodiversity in Margalla National Park Islamabad because of excessive human activity.

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس