u گلگت : موسمیاتی تبدیلی سے گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے میں اظافہ | ٹی این این Share Button" />
Published On: Tue, Jun 7th, 2016

گلگت : موسمیاتی تبدیلی سے گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے میں اظافہ

 گلگت۔

منظر شگری ۔

  موسمیاتی تبدیلی کے باعث بنے والی گلیشیائی جھیلوں کے پھٹ جانے سے سینکڑوں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیا ہے

حور علی نامی پچپن سالہ شخص جوکہ جگلوٹ گاہ کا رہائیشی ہے اس کا کہنا ہے کہ اس گھر زرعی زمین اور پھلدار درخت چھ برس قبل راکاپوشی پہاڑ کے دامن میں بنی ہوئی گلیشیائی
جھیل کے پھٹ جانے سے آنے والے سیلاب کے نذر ہوگئے ۔ اس سیلاب نے ہمارا سب کچھ ختم کردیا کیونکہ میں اپنے بچوں کی ضروریات زندگی خوراک اور تعلیم کے اخراجات کھیتی باڑی اور پھلدار درختوں والے باغات سے پورا کرتا تھا لیکن یہاں آنے والے سیلاب نے سب کو نہ صرف بےگھر کردیا بلکہ گزشتہ چھ برس سے اب تک بےروزگاری کے مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑا ۔

حور علی نے بتایا کہ ہمارے گاوں جگلوٹ گاہ میں ایک سو سال کا عمررسیدہ شخص مظہر اب بھی زندہ ہے جس سے ہم نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو یاد ہے کہ جگلوٹ گاہ میں کبھی ایسا سیلاب آیا ہو تو اس ایک سو سال عمر والے شخص کا کہنا تھا کہ جب میں چھوٹا تھا اور میری عمر پندرہ برس تھی اس وقت ایک بار سیلاب آیا جو کہ معمولی نوعیت کا تھا ۔ نالے کے قریب ایک گھر کے احاطے میں یہ سیلاب داخل ہوا اور گھر کو بھی معمولی نقصان پہنچایا ۔ لیکن اس رہائشی گھر میں مرمت کے بعد خاندان کے افراد بعد میں رہائش پزیر ہوئے ۔

حور علی کا کہنا ہے کہ چھ برس قبل گلیشیائی جھیل کے پھٹ جانے سے آنے والے سیلاب نے ہمارے گاوں کے تیس خاندانوں کو بری طرح متاثر کیا جوکہ تاحال بحالی کے منتظر ہیں ۔ حور علی نے بتایا کہ ہمارا سب کچھ ملیامیٹ ہوا تو ہم اپنے آبائی علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ جس کے بعد ہم تمام متاثرہ خاندانوں نے شاہراہ قراقرم کیساتھ جگلوٹ گورو میں بنجر زمین پر شلٹر تعمیر کیے اور اب چھ برس سے یہی پر رہائش پزیر ہیں ۔ اپنی جائیداد کے تباہی کی کہانی سنانے والا حور علی نے بتایا کہ جب آبائی علاقے میں ہوتے تھے تباہی وبربادی سے قبل مویشی بڑی تعداد میں رکھتے تھے جو کہ آمدنی کا ایک اہم زریعہ ہوتا تھا ۔ اب جس ویرانے میں چھ برس سے رہتا ہوں وہاں پینے کے لئے پانی مشکل سے ملتا ہے تو یہاں کھیتی باڑی کرنا اور مویشی پالنا ممکن نہیں ۔

ماہر ماحولیات ڈاکٹر وحید جسرا کے مطابق چونکہ تیزی سے بڑھتے درجہ حرارت قراقرم ، ہندوکش اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں پر موجود گلیشیشرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کردیا ہے ۔ گلگت بلتستان میں موجود سات ہزار چھوٹے بڑے گلیشیشرز پر ڈھائی ہزار گلیشیائی جھیلیں بن چکی ہے ۔

ڈاکٹر جسرا کاکہنا ہے کہ محکمہ موسمیات نے ان میں سے باون جھیلیوں کو نشیبی علاقوں اور انکے رہائیشیوں کے ئی انتہائی خطرناک قرار دیا ہے ۔ انہوں نے بالائی ہنزہ کی تحصیل گوجال کے پھسو گاوں کی مثال دی اور کہا کہ کئی قدرتی گلیشیرز کے زد میں موجود اس گاوں کے لوگوں نے کئی بار گلیشیائی جھیلوں کے پھٹ جانے سے نقل مکانی کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بٹورہ گلیشیر پر کوئی جھیل نہیں تھی لیکن اب اس گلیشیرز کے نشیب میں شاہراہ قراقرم کیساتھ ہی جھیل بنا شروع ہوگئی ہے ۔ جو کہ آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے ۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کیوجہ سے تیزی سے پگھلتے گلیشیرز کے باعث دریا سندھ میں پانی کی سطع بھی بلند ہورہی ہے ۔

واپڈا کے مطابق دریا سندھ میں گلگت کے قریب بونجی کے مقام پر انیس سو ستر سے دوہزار پانچ تک کے پانی کا بہاو بائیس فیصد سے زیادہ ہوگیا ہے ۔ دریا میں پانی کی مقدار بڑھنے کی وجہ بھی ماہرین بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیشرز کے پکھلنے کے تیز عمل بتاتے ہیں ۔ گلگت بلتستان حکومت نے قانون ساز اسمبلی سے ماحولیاتی ایکٹ دوہزار سولہ منظور کیا ہے جس میں تیزی سے پگھلتے قدرتی گلیشیشرز کے پگھلاو کو کم سے کم کرکے پاکستان کے زرعی اور تونائی کے شعبے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے بھی قانون سازی کی ہے ۔

موسمیاتی تبدیلیوں بالخصوص حورعلی سینکڑوں خاندان بےگھر بے گھر ہوگئے اور ذریعہ معاش سے محروم ہوئے ہیں ایسے خاندانوں کا ریکارڈ گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمنجمنٹ اتھارٹی کے پاس دستیاب نہیں ۔ جسکی وجہ سے جگلوٹ گاہ کا حورعلی سمیت کئی خاندان جوکہ نقل مکانی کرچکے ہیں اب انکی نئی نسلیں علاقوں میں روزگار تلاش کررہے ہیں۔

Share Button
Print Friendly

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>