u موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والے سیلاب کے خطرات سے متاثر گلگت کے لیے نئی امید | ٹی این این Share Button" />
Published On: Sat, Jun 18th, 2016

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والے سیلاب کے خطرات سے متاثر گلگت کے لیے نئی امید

گلگت

  رپورٹ و تصاویر: تنویراحمد

امان اللہ ہر صبح اپنے گھر کے آنگن سے دریائے خنجراب کے بہاو پر نظریں جمائے رہتے  ہیں کہ برسوں پہلے کی طرح کہیں اس کی بپھری لہریں ایک بار پھر اس کو اپنے آباو اجداد کی بچی کھچی زمین سے بے دخل نہ کر دیں ۔

 54 سالہ امان اللہ ضلع ہنزہ کے بالائی علاقے گوجال کے گاوں پھسو کے رہائشی ہیں جو اپنی اہلیہ دو بیٹوں ایک بیٹی اور ایک بھائی کی کفالت کرتے ہیں اور ان کا ذریعہ معاش زراعت پر منحصر ہے لیکن کلائمیٹ چینج کی وجہ سے گزشتہ نصف صدی میں درہ خنجراب سے نکلنے والے دریا(جسے مقامی لوگ دریائے خنجراب بھی کہتے ہیں) کے سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ دریا کے پانی نے ان کی زرعی زمین جس میں ان کے باپ دادوں نے آلو اور گندم کی فصلیں کاشت کی تھی اور درجنوں پھلدار اور غیر پھلدار درخت اگائے تھے سب گاوں کی اور بڑھتے دریا کے سبب زمینی کٹاو کی نذر ہوگئے حتیٰ کہ ان کا گھر بھی اسی زمینی کٹاو میں بہہ گیا اور انہیں پرانے پھسو گاوں سے نقل مکانی کرنی پڑی قریبی علاقے میں پھسو جہان آباد کے نام سے ایک نئی بستی کی بنیاد رکھی

مگر ستم بالائے ستم یہاں پر بھی موسمیاتی تغیر پزیری نے ان کی جان نہیں چھوڑی اور زمین کے کٹاو کا عمل جاری رہنے کے باعث ان کی زر خیز زمین یوں کھسک کر کم ہو رہی ہے جیسے ہاتھ کی مٹھی سے ریت کھسک رہی ہو

 ۔ پھسو گاوں  143 گھرانوں کے 1300 نفوس پر مشتمل ہے اور زمین نہ رہنے کی وجہ سے لوگ سیاحت کی طرف راغب ہو گئے ہیں۔ امان اللہ کا کہنا ہے کہ ہمارا گاوں 70-1960 جیسا باکل نہیں رہا سب کچھ تبدیل ہو چکا ہے پہلے گاوں میں ہرے بھرے کھیت تھے سیب ، آڈو ، چیری اور خوبانی کے پھلدار درخت تھے جنہیں بیچ کے گاوں والے اچھی آمدن حاصل کرتے تھے لیکن اب زمین نہ ہونے کی وجہ سے آمدن کا یہ ذریعہ بھی انتہائی محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گاوں کے 28 گھرانے دریائی کٹاو کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ اب تو نئی آبادی میں واقع ان کا گھر دریائی کٹاو کی زد میں ہے اور 15 فٹ کے فاصلے پر رہ گیا ہے معلوم نہیں آگے کیا بنے گا ۔ اس سوال پر کہ زمینی کٹاو کے خطرے کو کم کرنے کے لئے حفاظتی طریقے بھی تو اپنائے جا سکتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ گاوں کے 28 گھرانے خطرے سے دوچار ہیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ پہلے کوئی ایسا ادارہ حکومتی سطح پر یا نجی سطح پر نہیں تھا کہ جو ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرنے کے حوالے سے شعور دیتا اگر پہلے ایسا کیا جاتا تو آج شائد میرا گھر دریا سے محض 15 فٹ کے فاصلے پر نہ رہ جاتا

لیکن اس بار ایک امید ضرور پیدا ہو گئی ہے اور وہ ڈبلیو ڈبلیو ایف ، آئی سی آئی موڈ اور دیگر حکومتی اداروں کی جانب سے شروع کیا گیا “ہمالیکا” منصوبہ ہے جس کا مقصد ہم جیسے متاثرین کو قدرتی آفات سے نمنٹنے کے لئے تیار کرنا ہے اور ہم بڑی حد تک پر امید بھی ہیں ۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف گلگت بلتستان کی کلائمیٹ چینج اینڈ اڈاپٹیشن آفیسرانیلہ اجمل کہتی ہیں کہ ہمالیکا منصوبہ پھسو جیسے خطرے سے دوچار گاوں کے لوگوں کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہو گا کیوں کہ یہ ایک پائلٹ منصوبہ ہے جس کی کامیابی کی بنیاد پر ہم گلگت بلتستان میں کلائمیٹ چینج پالیسی مرتب کر سکتے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد مقامی کمیونٹی کو اپنے وسائل میں رہتے ہوئے قدرتی آفات سے نمنٹنے کے لئے تیار کرنا ہے ۔ ہم نے لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ کوئی قدرتی آفت جیسے سیلاب ، دریائی کٹاو ، زلزلہ اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے کی صورت میں گاوں کے لوگ کس طرح اپنے وسائل کا صحیح استعمال کرتے ہوئے نقصانات کو کم سے کم کر سکتے ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین اس میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں اس کے علاوہ جرنلسٹس اور دیگر سٹیک ہولڈرزکو انگیج کر کے ہم اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس پرہم کام کر رہے ہیں ۔ انیلہ اجمل پر امید ہیں کہ یہ منصوبہ ضرور کامیاب ہو گا ۔

امان اللہ کہتے ہیں کہ 2010 کے سپر فلڈ نے گاوں والوں کو بہت نقصان سے دوچار کیا ہے اور گزشتہ پانچ سال کے دوران ہر سال موسم گرما ان کے لئے مشکلات اور تباہی کا باعث بنا ہے اس دوران دریا کے بہاو میں اضافے سے ان کی زرعی زمینیں کٹاو میں رہی اور وہ بے بسی کی تصویر بنے رہے کیوں کہ ان کے پاس اپنی زمینوں کو کٹاو سے بچانے کے لئے کوئی سامان نہیں تھا ۔جس کی وجہ سے آلو کے کھیت اور ایک درجن پھلدار درخت زمینی کٹاو کی نذر ہو گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ 1960 سے اب تک پھسو گاوں کی تقریباُ دو ہزار کنال زرعی زمین دریا کے کٹاو کی نذر ہو چکی ہے ۔

انیلہ اجمل کہتی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی نے پھسو گاوں کو بہت متاثر کیا ہے وہ لوگ جو کبھی زراعت کے شعبے سے وابستہ تھے اور ان کی آمدن کا ذریعہ بھی یہی تھا زمینیں نہ رہنے کی وجہ سے اپنا پیٹ پالنے کے لئے دوسرے شعبوں میں محنت مزدوری کرنے لگے ہیں اوراسی وجہ سے ہمالیکا منصوبے کے لئے پھسو گاوں کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پھسو میں قدرتی آفات سے آگاہ رہنے کے لئے ارلی واننگ سسٹم بھی نصب کیا جا رہا ہے ۔

اسی گاوں کے 52 سالہ امتیاز کی کہانی بھی امان اللہ جیسی ہی ہے وہ بتاتے ہیں کہ نئی بستی میں ہمیں آباد ہوئے 25 سال ہو گئے ہیں لیکن زمینی کٹاو سے اب بھی ہماری جان نہیں چھوٹی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پانچ افراد پر مشتمل اپنے خاندان کا واحد کفیل ہوں پہلے کھیتی باڈی سے گھر کے اخراجات پورے کرتا تھا لیکن آہستہ آہستہ زرعی زمین کٹاو میں آتی گئی اور یہ پیشہ بھی مجھے بڑی حد تک ترک کرنا پڑ گیا اور اب ایسا لگتا ہے کہ موسمی تبدیلی کہیں تیسری نقل مکانی پر ہمیں مجبور نہ کردے ۔

 انیلہ اجمل کہتی ہیں کہ گزشتہ دس برس کے موسمیاتی تغیر پزیری کی صورتحال کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں قدرتی آفات زیادہ واضح رہی ہیں اور اب تو موسمیاتی تبدیلی گلوبل مسلہء بن چکی ہے اور گلگت بلتستان پر اس کے نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اس لئے ہم ہمالیکا منصوبے کے تحت برے دنوں کے لئے مقامی کمیونٹی کو تیار کر رہے ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ گلگت بلتستان میں کلائمیٹ چینج پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے بھی لوگ بچاو کے طریقوں سے لا علم ہیں لیکن اس منصوبے میں چونکہ حکومت کا بھی بھر پور تعاون ہے اس لئے ہم پر امید ہیں کہ یہ منصوبہ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے گا ۔

Share Button
Print Friendly
Displaying 1 Comments
Have Your Say
  1. Karim Khan says:

    Well written Tanveer! The local community across Gilgit-Baltistan and adjacent mountain regions facing sever climate change effects and it is primarily the responsibility of State to protect and compensate the at risk and affected households and communities and take step for DRR mitigation and prevention as well as come up with alternatives in agriculture, livestock and other fields.

    Secondary those non governmental organizations specifically working on Climate change adaption and DRR etc must come up with an holistic approach to mitigate and compensate the region with sustainable solutions.

    Your this great piece of work is eye opener for policy makers, NGOs and more importantly the state and semi government organizations like UN, ICIMOD and others

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>