u کچھووں کا عالمی دن : کچھووں کو لاحق خطرات پر قابو پانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اپنانے پر زور | ٹی این این Share Button" />
Published On: Mon, May 23rd, 2016

کچھووں کا عالمی دن : کچھووں کو لاحق خطرات پر قابو پانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اپنانے پر زور

فوٹو بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان

فوٹو بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان

اسٹاف رپورٹ
لاہور، پنجاب:
پاکستان میں تازہ پانی کے کچھووں کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کے جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کے شیڈول تین اور چارکے تحت تحظ مہیا کیا گیا ہے اور سندھ کے حالیہ ترمیم شدہ جنگلی حیات کے تحفظ کے ایکٹ میں بھی اس کا شمار انتہائی محفوظ جانوروں میں ہوتا ہے۔ باوجوداس محفوظ حیثیت کے ملک بھرمیں ان کچھوں کا غیرقانونی شکاراور تجارت جاری ہیں ۔اس کی ایک وجہ ان کچھووں کی مشرقی ایشائی ممالک میں بڑھتی ہوئی مانگ ہے جہاں پر ان کو روایتی ادویات اور خوراک میں استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں تازہ پانی کے کچھوے کی آٹھ اقسام ہیں اوریہ دریائے سندھ سے منسلک نہروں ، تالاب اور آبی ذخائر میں پائے جاتے۔ آبی ماحول کو صاف رکھنے میں ان کچھوں کا ایک کلیدی کردار ہے کیونکہ یہ مردہ نامیاتی مواد اور کمزور اور بیما ر مچھلی کو اپنی خوراک بناتا ہے۔

فوٹو بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان

فوٹو بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان

اس کے سا تھ ساتھ ملک کے ساحلی علاقوں میں حالیہ عرصے میں پانچ سمندری کچھووں کے اقسام دیکھا گیا ہے ۔ پچھلے تین سال کے عرصے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف -پاکستان نے اس ساحلی پٹی میں تین نایاب نسل کے سمندری کچھووں کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے جن میں loggerhead, hawksbill leatherback شامل ہیں ۔ سمندری کچھووں کے تحفظ کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف -پاکستان ، بلوچستان اور سندھ کے صوبائی محکمہ جنگلی حیات کے ساتھ مل کر متعدد منصوبوں پر کام رہا ہے جس کے نتیجے
میں سمندری کچھووں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

اس دن کے موقعہ پر ڈی جی ڈبلیو ڈبلیو ایف -پاکستان ، حماد نقی خان کا کہنا تھا کہ” پاکستان میں کچھووں کی غیر قانونی تجارت اور شکار ان کی آبادی میں کمی کا باعث بن رہی ہے جس کی وجہ سے دریاوں میں ان کی ماحول دوست خدمات شدید متاثر ہورہی ہے ۔ پاکستان میں کچھووں کی آبادی خطرات سے دوچار ہے جس سے مستقبل میں پورے آبی ماحولیاتی نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف -پاکستان ان کچھووں کے تحفظ کے لیے تمام صوبائی محکمہ جنگلی حیات کے شانہ بشانہ کھڑا ہیں ۔ “

Share Button
Print Friendly

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>