u کیا ڈیپ سی ٹرالنگ مچھلی کو ناپید کردے گی؟ | ٹی این این Share Button" />
Published On: Sat, Apr 23rd, 2016

کیا ڈیپ سی ٹرالنگ مچھلی کو ناپید کردے گی؟

​​
رباب ابراہیم

: کراچی، سندھ
ہزارسالوں کی تاریخ سمیٹے شان سے بہتے دریائے سندھ کو دیکھ کر، کلیم کے چہرے پر پریشانی کے سائے اور گہرے ہوتے جارہے تھے۔یہ دریا جو صدیوں سے اس کی زمین کو سیراب اور اس کے کنارے بسنے والے لوگوں کے رزق کا ذریعہ تھا۔۔کچھ اپنوں کی لاپرواہی اورکچھ موسموں کے بدلتے تیورکے باعث اپنی شان اور مٹھاس کھوتا جارہا تھا۔یہ تھا کیٹی بندرکارہائشی کلیم ۔جس کا کہنا تھا ۔کہ ایک تو پہلے ہی مچھلی کا ذخیرہ کم اوپر سے حکومت کا ڈیپ سی ٹرالر کو لائسنس دینے کا فیصلہ سمندرکے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کو بھی روند ڈالے گا۔۔

 ڈیب سی ٹرالنگ چھوٹے ماہی  گیروں کے لئے خطرناک ہے مصطفی گرگیز

ڈیب سی ٹرالنگ چھوٹے ماہی گیروں کے لئے خطرناک ہے
مصطفی گرگیز

کیٹی بندر ۔کراچی کے جنوب مشرق میں 200کلومیٹرکے فاصلے پرضلع ٹھٹہ میں واقع ہے۔سندھ کے اس ساحلی علاقے میں 42آبادیوں میں 28آبادیوں کو سمندر کا پانی نگل گیا۔جبکہ یہاں کے مکینوں کو تین مرتبہ بے گھر بھی ہونا پڑا۔اب حکومت کی جانب سے ڈیپ سی ٹرالنگ کھولنے کا سن کرمقامی آبادی کو اپنے گھروں میں فاقے پڑتے نظرآرہے ہیں۔

ڈیپ سی ٹرالنگ سے مراد ایسے دیو ہیکل جال ہے۔جسے سمندرکی تہہ میں تقریبا ایک کلومیٹر سے زائدکی گہرائی میں ربررولرز یا طاقتور اسٹیل کی پلیٹس کی مدد سے نصب کیا جاتا ہے۔جسے ۔راک ہوپرز۔بھی کہتے ہیں۔مچھلی پکڑنے کے بعد اس دیوقامت جال کو طاقتورمشینوں کے ذریعے کھینچا جاتا ہے۔جو سمندر کی تہہ کو رگیدتا ہوا اپنے راستے میں آنے والی ہرچٹان ،،سمندری حیاتیات اور ان کے مسکن کو تباہ کرتاہوا سمیٹ لیا جاتا ہے۔جو سمندری حیات کے لئے قاتل ہے۔

یکو سسٹم سے مراد ایک ایسا ماحولیاتی نظام ہے ۔جو ایک علاقے کے رہنے والے ،وسائل ،رہائش ،اورباشندوں کے درمیان تعلقا ت کی زنجیر ہے

یکو سسٹم سے مراد ایک ایسا ماحولیاتی نظام ہے ۔جو ایک علاقے کے رہنے والے ،وسائل ،رہائش ،اورباشندوں کے درمیان تعلقا ت کی زنجیر ہے

ماہی گیروں کی ملک گیر تنظم فشرفوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ مقامی آبادی کے خدشات کو درست قراردیتے ہوئے بتایا۔کہ حکومت ہرسال ٹرالرز کی بولی دیتی ہے۔پچھلے پانچ یا چھ سالوں سے ٹرالر نہیں آئے ۔اس سال سو ٹرالر کی بٹ دی تھی۔ان میں چودہ میں سے چھے ٹرالر چین سے پاکستان میں کورنگی فش ہاربراتھارٹیز کے پاس پہنچ چکے ہیں۔جبکہ ابھی ان کے لائسنس پراسس میں ہیں۔۔اس لحاظ سے یہ غیرقانونی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان ٹرالرز نے چھوٹے ماہی گیروں کو نقصان پہنچایا۔گہرے سمندر میں مچھلی نہ ملنے پر یہ چھوٹے ماہی گیروں کے جال توڑتے ہوئے سمندری حدود میں داخل ہوجاتے ہیں۔اور انہیں ڈرانے کے لئے ان پرفائرنگ کرتے اور گرم پانی پھینکتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ٹھٹہ پاکستان فشرفوک فورم کے جنرل سیکریٹری ۔محمد یعقوب شہزادو اوٹھو ۔نے بھی ٹرالرز کے پاکستان پہنچنے کی تصدیق کی ۔ان کا کہنا تھا کہ کہ مشرف حکومت میں ٹرالر کو لائسنس دیے گئے ۔جنہوں نے مچھلی کا بے دریغ شکارکیا۔اس تباہی کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔شہزادو اوٹھوکا کہنا تھا۔مشرف حکومت میں ٹرالنگ پرپابندی بھی عائد ہوئی ۔لیکن تین سے چارہ ماہ بعد دوبارہ کھل گئی۔شہزادو اوٹھو نے کہا کہ ڈیپ سی ٹرالنگ سمندر ی نظام کے بنیادی ڈھانچے اور اس میں موجود ۔۔ایکوسسٹم۔۔کوبھی تباہی کے خطرے سے دوچارکردے گی۔

ایکو سسٹم سے مراد ایک ایسا ماحولیاتی نظام ہے ۔جو ایک علاقے کے رہنے والے ،وسائل ،رہائش ،اورباشندوں کے درمیان تعلقا ت کی زنجیر ہے۔جو انہیں ایک دوسرے سے جوڑ کے رکھتا ہے۔اس نظام میں انسان ،پرندے،درخت،جانور،پودے،مچھلی ،پانی ،مٹی اورمائیکروحیاتیا ت شامل ہیں۔اس ماحولیاتی برادری میں ہرجاندارکی زندگی کا انحصار دوسرے پرمنحصر ہے۔ایکو سسٹم کا ایک حصہ خراب یا غائب ہونے کی صورت میں منفی اثرات کا شکارتمام ماحولیاتی برادری کو ہونا پڑے گا۔

حالیہ سائنسی ریسرچ کے مطابق سمندری تہہ میں موجود مختلف قسم کے ۔ مونگا۔ مرجان۔یعنی ڈھانچہ بنانے والے ہوا پسند حیوان۔ یہ چھوٹے چھوٹے جیلی جیسے بحری حیوانات چونے جیسا مادہ خارج کرتے ہیں جو ڈھانچہ تشکیل کرتا ہے۔ ان کا لاروا ابتدا میں سمندر میں کسی چٹان سے چیک جاتا ہے۔ اس میں سے ایک نیالا روا نکل آتا ہے۔ جب پہلا لاروا مر جاتا ہے تو نیا لاروا اس کے ڈھانچہ سے چپک جاتا ہے اور نشوونما پاتا رہتا ہے۔ چنانچہ کورل کی تہہ بنتی چلی جاتی ہے۔ انہیں کورل ریفس کہتے ہیں۔جو سمندری حیاتیات اور اس میں موجود ایکو سسٹم کو زندہ رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار اداکرتے ہیں۔

 2005نومبر سے پاکستانی سمندر حدود میں ٹرالنگ نہیں ہوئی  ڈبلیو ڈبلیو ایف  کنسلٹنٹ محمد معظم خان

2005نومبر سے پاکستانی سمندر حدود میں ٹرالنگ نہیں ہوئی
ڈبلیو ڈبلیو ایف کنسلٹنٹ محمد معظم خان

پاکستان فشرفوک فورم کے مینجر پروگرامز مصطفی گرگیز نے بتایا۔ڈیب سی ٹرالنگ چھوٹے ماہی گیروں کے لئے خطرناک ہے۔اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائریشن نے ایک قانون متعارف کروایا ۔۔یہ ضرورت اس لیے پیش آئی ۔کہ جس طرح پوری دنیا میں بے تحاشا فشنگ ہورہی ہے۔ اگریہ سلسلہ جاری رہا تو ایک سروے کے مطابق 2047تک پوری دنیا کے سمندر مچھلی سے خالی ہوجائیں گے۔۔اس قانون کی رو سے بڑے پیمانے کی ماہی گیری کو بند کرنا ہوگا۔اور چھوٹے پیمانے پر فشریز کوترقی دینا ہوگی۔تاکہ سمندری حیاتیات اور اس کا ایکو سسٹم برقراررہے۔

گہرے سمندروں میں ایکو سسٹم کو قائم رکھنے والی یہ حیاتیات ایک بار ختم ہونے کے بعد دوبارہ نشونما پانے میں ہزاروں یا صدیوں کا وقت لیتی ہے۔جبکہ کورل ریفس اور اسپنج کمیونیٹیزکی دوبارہ تخلیق کا عمل بھی سست ہوتاہے۔طاقتور جال جب سمندری فرش سے سمٹنا شروع ہوتا ہے تو اپنے اندر مچھلیوں کے ہزاروں انڈے بھی تباہ کردیتا ہے۔اس کے علاوہ گہرے سمندروں میں پائے جانے والی شارک ۔وہیل شارک ۔۔سبز کچھوے۔چھوٹا سمندری کچھوا۔کو بھی سمیٹ لیتا ہے۔جن کے لیے سمندر کی تہہ میں موجود اس موت کے بلڈوزر سے نکلنا ناممکن ہوتا ہے۔

پاکستان میرین فشنگ کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے موجودہ کنسلٹنٹ محمد معظم خان نے ۔فشرفورک فورم کے عہدیداروں کے دعوں کی نفی کرتے ہوئے بتایا ۔کہ 2005نومبر سے پاکستانی سمندر حدود میں ٹرالنگ نہیں ہوئی۔اس گیارہ سال کے عرصے میں اگرٹرالنگ ہوئی بھی ہے۔توپاکستانی حدود کے باہر سے ہوئی ہے۔جو بارہ میل پرختم ہوجاتی ہے۔محمد معظم خان کا کہنا تھا کہ پابندی سے پہلے ٹرالنگ کی اجازت 35میل ناٹیکل سے باہر تھی۔لیکن پابندی ہٹنے کے بعد 12میل سے بحال ہوگئی۔اس طرح ماہی گیروں کا استحصال شروع ہوا۔یعنی پابندی لگوانے والے ہی ماہی گیرکمیونٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ جدید مانٹرنگ کی وجہ سے اب ان جہازوں کے لئے سمندری حدود کی خلاف ورزی ممکن نہ تھی ۔اس لیے رفتہ رفتہ یہ کم ہوتے چلے گئے۔۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی fleetزیادہ ہونے اور اسٹاک کم ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ ہرسال اعلان تو کرتی ہے۔مگر ٹرالنگ کا لائسنس نہیں دیتی ۔۔

کراچی اور سندھ کی ساحلی برادریوں نے صوبائی قوانین کو لاگو کرنے اور ایک موثر نگرانی کے نظام کے ساتھ گہرے سمندر میں ٹرالنگ پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ان دیوقامت جالوں نے ہزاروں کی تعداد میں مقامی ماہی گیروں کا ذریعہ معاش بھی خطرے میں ڈال دیا ہے

اس بارے میں سابق ڈی جی کا یہ کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق ملکی حدود سے باہر دو سو میل تک کی حدود ایکسکلوسو اکانامی زون کہلاتی ہے۔ اگر اس علاقے میں پاکستان کے اجازت یافتہ جہاز نہیں چلے گیں تو دوسرے ممالک جیسے سینٹرل ایشیا اور گلف جن کے قریب ترین بحرہ عرب موجود ہے۔اکنامک ایکٹویٹی اور ٹرالنگ کا حق مانگ سکتے ہیں۔کیونکہ ان کے پاس مضبوط موقف ہوگا۔کہ اگر ملک خود فشنگ نہیں کررہا تو انہیں اجازت دی جائے۔اس لیے ٹرالنگ ہو تاکہ کوئی دوسرا ملک ہمارے پانیوں میں فشنگ نہ کرسکے۔۔

محمد معظم خان کا کہنا تھا کہ یہ سراسر جھوٹ اورمغالبے پر مبنی ہے کہ آج کل ماہی گیروں کو ڈیپ سی ٹرالنگ سے نقصان ہو رہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیپ سی ٹرالنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔۔ کیونکہ پاکستان میں ماہی گیری کے وسائل پہلے ہی بہت گھٹ گئے ہیں۔ان حالات میں گہرے سمندروں میں ٹرالروں کے ذریعے فشنگ چھوٹے ماہی گیروں کو مزید سختی سے دوچار کردے گی۔

Share Button
Print Friendly
Displaying 3 Comments
Have Your Say
  1. ایک انتہائی معلوماتی تحقیق ہے .رباب ابراہیم کی کاوش قابل تحسین اور ارباب اختیار کے لئے قابل توجہ اور لمحہ فکریہ ہے .سدا سلامت رہے

  2. ایک انتہائی معلوماتی تحقیق ہے .رباب ابراہیم کی کاوش قابل تحسین اور ارباب اختیار کے لئے قابل توجہ اور لمحہ فکریہ ہے .سدا سلامت رہے

  3. Farhan Nisar says:

    رباب ابراہیم نے سیر حاصل انداز میں ڈیپ سی ٹرالنگ کا تجزیہ کیا ہے جو یقینی طور پر سمندری حیات کو نقصان پہنچانے کےساتھ ساتھ سمندر سے وابستہ خاندانوں کے روزگار کو بھی متاثر کررہا ہے جس کا جلد از جلد سد باب ہونا چاہیے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس