u سندھ : درختوں کی مقتل گاہ | ٹی این این Share Button" />
Published On: Sun, Mar 20th, 2016

سندھ : درختوں کی مقتل گاہ

How a Tree is Made into Lumber, vintage engraving

فہمیدہ ریاض

کراچی میں ہماری پلازہ کے باہر ایم اے جناح روڈ پر ایک بڑ کا قدیم درخت تھا، جس کے نیچے فٹ پاتھ پر ایک موچی نے اپنی دکان سجا رکھی تھی جبکہ سورج غروب ہونے کے بعد اس پر چڑیاں اور کبوتر اپنا بسیرا کیا کرتے تھے، چند روز قبل کچھ لوگ کلھاڑیوں کے ساتھ پہنچے اور اس درخت کو زمین بوس کردیا۔

آخر ایسا کیوں کیا گیا ؟ معلوم ہوا کہ ایک سیٹھ جو سوئی گیس میں ملازم بھی ہے نے ایک دکان خرید لی ہے اس کے سامنے یہ درخت آڑے آرہا تھا تو اس نے اس کو ہٹانا ہی بہتر سمجھا اور یوں کئی سال درخت اپنے انجام تک پہنچا، اس سے قبل اسی عمارت کے برابر میں بھی عمارت کی تعمیر کے لیے ایسے کئی درختوں کو کاٹ دیا گیا تھا۔

 تھر میں درخت کئی سالوں کے بعد جوان ہوتے ہیں جو لوگوں ، جانوروں اور پرندوں کو خوراک کے علاوہ سایہ بھی فراہم کرتے ہیں سخت تپش میں لوگ ان کے نیچے بیٹھ کر کچھ سانس لیتے ہی


تھر میں درخت کئی سالوں کے بعد جوان ہوتے ہیں جو لوگوں ، جانوروں اور پرندوں کو خوراک کے علاوہ سایہ بھی فراہم کرتے ہیں سخت تپش میں لوگ ان کے نیچے بیٹھ کر کچھ سانس لیتے ہی

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میونسپل کارپوریشن کو سڑکوں پر موجود درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے، تقریبا چار سال قبل جب  شاہراہ فیصل سے درختوں کی کٹائی کی جارہی تھی تو کچھ باشعور لوگوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے بعد عدالت نے حکام کو سختی سے ہدایت کی تھی کہ سڑکوں سے درخت نہیں کاٹے جائیں گے لیکن اس حکم کے بعد یہ سلسلہ جوں کا توں جاری ہے اس قدر کے ایم پی اے ہاسٹل کے سامنے موجود ایک قدیم درخت کو کاٹا گیا تھا۔

یہ صورتحال صرف کراچی میں نہیں پوری سندھ میں موجود ہے، بچپن میں جب حیدرآباد سے میرپور خاص جاتے تھے تو تقریبا پورا راستہ گھنے درختوں سے ڈھکا ہوتا اس قدر کے سورج کی روشنی بھی بڑی مشکل سے چھن چھن کر نکلتی تھی لیکن اس راستے کو ڈبل وے کرنے کے لیے کئی سو درخت کاٹ دیئے گئے، اسی طرح تھر میں کول فیلڈ تک رسائی کے لیے بنائے جانے والے درخت بھی بیدریغ کاٹے جا رہے ہیں۔

تھر میں ​کوئلے کے منصوبے کے لیے درختوں کو کاٹ دیا گیا اور اس کے بدلے درخت لگانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہے۔

تھر میں ​کوئلے کے منصوبے کے لیے درختوں کو کاٹ دیا گیا اور اس کے بدلے درخت لگانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہے۔

تھر میں درخت کئی سالوں کے بعد جوان ہوتے ہیں جو لوگوں ، جانوروں اور پرندوں کو خوراک کے علاوہ سایہ بھی فراہم کرتے ہیں سخت تپش میں لوگ ان کے نیچے بیٹھ کر کچھ سانس لیتے ہیں جبکہ پرندوں کو بھی یہ گھونسلے فراہم کرتے ہیں لیکن ان کا کون خیال رکھا ہے حالانکہ ہر منصوبے کی انوائرمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ لازمی ہوتی ہے  لیکن دراصل یہ صرف ایک کاغذ ہوتا ہے جس کی عملی طور پر کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

چھاچھرو کے قریب کسی زمانے میں ایک وسیع رقبہ گائیں چرانے کے کام آتا تھا جس کو مقامی زبان میں گئوچر کہتے ہیں لیکن یہاں کوئلے کے منصوبے کے لیے پانی کے تلاب بناکر درختوں کو کاٹ دیا گیا اور اس کے بدلے درخت لگانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہے۔

تھر میں ​کوئلے کے منصوبے کے لیے درختوں کو کاٹ دیا گیا اور اس کے بدلے درخت لگانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہے۔

تھر میں ​کوئلے کے منصوبے کے لیے درختوں کو کاٹ دیا گیا اور اس کے بدلے درخت لگانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہے۔

سندھ کے نوجوان صوفی راگی سیف سمیجو نے اپنے فیس بک پیج پر سندھ یونیورسٹی میں درختوں کے قتل عام پر دکھ کا اظہار کیا تھا یقینن ایک مادر علمی کا ایسا رویہ سوال اٹھاتا ہے کہ اس کا درختوں کے محافطوں کے بجائے قاتلوں میں شمار کیوں کیا جارہا ہے، یقینن اس میں چند لوگوں کے ذاتی مفادات ہی ہوں گے۔

ہم بچپن سے یہ پڑہتے آئے ہیں کہ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں ڈاکو فیکٹر پیدا کرکے سندھ کے کچے میں جنگلات کی کٹائی کی گئی اور وہاں سے جو زمین نکلی اس پر کیٹیوں کا قیام ہوا ہے جن کے پاس یہ کیٹیاں موجود ہیں حیرت انگیز طور پر ان میں سے اکثر آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نظر آتے ہیں یعنی درختوں کی قیمت پر سیاسی شخصیات بنائیں گئیں۔ لیکن جمہوری دور حکومت میں بھی ان جنگلات کے ساتھ رحم نہیں کیا گیا۔

سندھ میں 2010 کے سیلاب کے دوران بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ کچے کے علاقے میں جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے پانی کی مزاحمت کم ہوگئی ہے اس وجہ سے اس نے آبادیوں پر حملہ کیا، روھڑی کینال ہو یا رائس کینال یا میرپورخاص کا جمڑائو ان کے کناروں پر بڑے بڑے درخت پانی کے بہاؤ کو سیدھا اور کناروں کو مضبوط رکھتے تھے جبکہ محکمہ آبپاشی کے داروغے ان درختوں کے محافظ ہوتے تھے لیکن اب سب کچھ ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔

 یو این ڈی پی پاکستان کی جانب سے تھر اور بدین میں کھبڑ بچاؤ مہم کے لیے منصوبے شروع کیے گئے


یو این ڈی پی پاکستان کی جانب سے تھر اور بدین میں کھبڑ بچاؤ مہم کے لیے منصوبے شروع کیے گئے

بین الاقوامی طور پر کسی بھی ملک کے بہتر آبھو اور بارشوں کے لیے 25 فیصد رقبے پر جنگلات ہونے چاہیں لیکن پاکستان میں اس کے برعکس 4 سے آٹھ فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں سندھ میں خوش نصیبی سے ایک بڑا رقبہ کچے کے علاقے کا تھا جہاں جنگلات ہوسکتے تھے لیکن لالچ نے سب کچھ چھین لیا ہے۔ دریائے کے علاوہ سمندری جنگلات تمر کی صورتحال بھی مایوس کن ہے، ٹھٹہ، بدین اور کراچی میں ان کی کٹائی جاری ہے ان میں ہی جھینگے کی افزائش نسل ہوتی ہے جبکہ سمندری طوفان کی بھی یہ مینگروز مزاحمت کرتے ہیں لیکن کراچی کے آس پاس کی کریکس میں ان کی کٹائی کرکے مٹی ڈال کر زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں ان میں مچھر کالونی سے لیکر یونس آباد اور ڈفینس اتھارٹی تک کا علاقہ شامل ہے۔

کیا جنگلات اور درختوں کی تعداد میں اضافے کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا؟

سیلاب کے دنوں میں کچہ زیر آب آنے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے بیج پہینکا جائے گا تاکہ نئے درخت ہوسکیں لیکن عملی اقدامات کسی نے نہیں دیکھے ہیں۔

کراچی میں سابق صوبائی وزیر بلدیات شرجیل میمن اس کے بعد جام خان شورو نے شجر کاری مہم کا اعلان کیا اس کے بینر شہر میں  کئی مقامات پر دیکھے گئے لیکن شجر کاری نظر نہ آئی حالانکہ بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں جب آصف علی زرداری وزیر ماحولیات تھے تو سندھ میں کئی مقامات پر انہوں نے نیم کے درخت لگوائے تھے یہ ہی نہیں ماحولیات پیپلز پارٹی کے منشور کا بھی حصہ رہے۔

سندھ میں ہر جگہ ٹمبر مافیا سرگرم ہے، مگر حکومت کی جانب سے درختوں ک کٹائی روکنے کے لئے کوئی اقدامات نظر نہیں آتے

سندھ میں ہر جگہ ٹمبر مافیا سرگرم ہے، مگر حکومت کی جانب سے درختوں ک کٹائی روکنے کے لئے کوئی اقدامات نظر نہیں آتے

گزشتہ سال جب نتھیا گلی، ناران اور کاغان جانا ہوا  تو قدیم اور نئے ابھرتے درخت دیکھ خوشی ہو ، مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے درخت کاٹنے پر جرمانہ ہے، حالیہ حکومت کے دنوں میں سب سے زیادہ کامیاب شجر کاری خیبر پختون خواہ میں کی گئی ہے اور کئی بین الاقوامی ادارے اس کے گواہ بھی ہیں۔

سندھ میں ٹھٹہ کی ساحلی پٹی پر دو بار پاکستان نے مینگروز کا عالمی رکارڈ قائم کیا لیکن ان پودوں کے استحکام اور پرورش کا کوئی پروگرام نہیں نظر آیا تھا، یعنی ان پودوں کی افزائش کے لیے دریا کا میٹھا پانی ضروری تھا جو یہاں تک نہیں پہنچتا لیکن انڈیا کا رکارڈ توڑنے کی خواہش نے یہ اقدام کرایا۔

یو این ڈی پی پاکستان کی جانب سے تھر اور بدین میں کھبڑ بچاؤ مہم کے لیے منصوبے شروع کیے گئے اسی طرح تھر میں اسپارک نے مقامی درختوں خاص طور پر کنڈی اور گگر بچانے کے لیے مہم چلائی نتیجے میں سیشن عدالت نے وہاں درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کردی ہے۔

تعلیمی اداروں میں کبھی کبھی ماحول اور شجر کاری کی اہمیت کے بارے میں آگاہی کے بعد کچھ بچے نکل کر درخت لگانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعد میں انہیں اور بھی کئی کام ہوتے ہیں۔

کراچی میں گزشتہ سال گرمی کی سخت لہر اور 14 سو سے زائد ہلاکتوں کے بعد جب وجوہات پر غور کیا گیا تو اس کی ایک وجہ درختوں کے فقدان کو بھی قرار دیا گیا جو شہر سے لاپتہ ہو رہے ہیں، شہر میں ایسے کئی مقامات ہیں جہاں پرندوں کو دانے دیئے جاتے ہیں تاکہ گناہوں کا بوجھ کم ہو لیکن دانے ڈالنے والے یہ نہیں سوچتے کہ یہ پرندے جہاں رہتے ہیں ان کے آشیانے تو خود ان جیسےہی شہری ختم کر رہے ہیں اب درخت نہیں رہیں گے تو یہ بجلی اور ٹیلیفون کے کھنبوں میں تو نہیں رہے سکتے یہ ہی وجہ کہ کراچی سینٹرل میں اب پرندے نایاب ہوچکے ہیں۔

Share Button
Print Friendly

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>