u گلگت بلتستان : متبادل توانائی کی عدم دستیابی، لکڑی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے بڑھتی آلودگی | ٹی این این Share Button" />
Published On: Thu, Jan 7th, 2016

گلگت بلتستان : متبادل توانائی کی عدم دستیابی، لکڑی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے بڑھتی آلودگی

رپورٹ اور تصاویر۔ منظر شگری
:  گلگت
144144گلگت بلتستان اور چترال میں متبادل توانائی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی لوگ سخت سردی سے بچنے کے لئے لوگ ایندھن کے طور جلانے کے لئے درختوں کو کاٹ کر لکڑی استعمال کرتے ہیں ۔ ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی اس لکڑی سے 32 ہزار 590 ٹن کاربن ڈائی اکسائیڈ فضائی آلودگی کا باعث بن رہی ہے ۔ یہ خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ قراقرم ہندوکش اور ہمالیہ کے پہاڑوں کے قدرتی گلیشیرز کے پگھلنے کیساتھ ان گلیشیرز پر جھیلیں بنے کا باعث بن رہی ہے ۔ ایک غیر سرکاری ادارے نے گلگت بلتستان اور چترال میں کوکینگ اور ہیٹنگ کے لئے توانائی کے زرائع تلاش کرنے کے لئے ماہرین کے زریعے ایک تحقیقاتی رپورٹ ماہرین کی مدد سے تیار کی ۔

اس سروے میں گلگت بلتستان اور چترال کے ایک لاکھ 25 ہزار رہائشی گھروں کا سروے کیا گیا ۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے سال میں تقریباء تین ماہ ہرگھر میں ہیٹنگ اور کوکینگ کے لئے ہر گھر میں جلانے کے لئے درختوں کو کاٹ کر لکڑی استعمال کی جاتی ہے ۔ایک گھر میں 125 من لکڑی جو کہ 5000 کلوگرام بنتی ہے کوکینگ اور ہیٹنگ کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔آغا خان پلائنگ اینڈ کنسٹرکشن پروگرام کے تعاون سے ہونے والا سروے میں جس بات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔اس کے مطابق ایک کلو لکڑی ہیٹنگ اور کوکینگ کے لئے جلانے سے اعشاریہ 85 کاربن ڈائی اکسائیڈ فضاء میں داخل ہوتی ہے ۔

Gilgit5

اس رپورٹ کے مطابق ایک سال میں گلگت بلتستان اور چترال میں جلانے کے لئے استعمال ہونے والی لکڑی سے مجموعی طور پر صرف سال 2015 میں ساڑھے بتیس ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے ۔اس سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے اسطرح ہرسال جلانے کے لئے ان پہاڑی علاقوں میں لاکھوں ٹن پھلدار ، غیر پھلدار اور قدرتی جنگلات کی لکڑی کاٹ دی جاتی ہے ۔ایندھن کے طور پر استعمال کے لئے لاکھوں ٹن لکڑی کے کٹ جانے سے فضاء میں آکسیجن کی مقدار میں بھی فی کلو گرام اس سے زیادہ تناسب سے کمی ہوتی ہے ۔

Gilgit8

Gilgit11

محکمہ ماحولیات کے حکام نے اس حوالے سے بتایا کہ اتنی زیادہ مقدار میں لکڑی جلانے سے فضاء میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کے اخراج ماحولیاتی آلودگی کے لئے انتہائی خطرناک ہے ان علاقوں میں سخت سردی کیساتھ ایندھن کے متبادل زرائع نہ ہونے کی وجہ سے لکڑی کے جلانے پر پابندی عائد کرنا مشکل کام ہے لیکن پھر بھی زیادہ خطرناک اور زیادہ کابن فضاء میں شامل کرنے والے جن میں پلاسٹک ، گاڑیوں کے ٹائز اور انجن آئیل کے جلانے پر دفعہ 144 کے تحت پورے گلگت بلتستان میں پابندی عائد کردی ہے ۔

Gilgit2

ڈائریکٹر ماحولیات شہزاد حسن شگری نے بتایا کہ ایندھن کے لئے پہاڑی علاقوں میں متبادل زرائع فراہم کرنے کے بعد ہی جلانے کی لکڑی سے فضاء میں داخل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔قدرتی گلیشیرز کے ان پہاڑی سلسلوں میں اتنی بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو گلیشیرز پر کا م کرنے ماہر سید زاہد حسین جوکہ قدرتی گلیشیرز کے پگھلنے کا عمل تیز ہونے اور ان گلیشیرز پر بڑی بڑی جھلیں بنے کے منصوبے GLOF پراجیکٹ کے ماہر بھی ہے نے بتایا کہ ہیٹنگ اور کوکینگ کے لئے استعمال ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو گلیشیرز اور پہاڑوں پر سردیوں میں پڑنے والی موسمی برف اپنی جانب کھنچ لینے کی خصوصیت رکھتی ہے ۔اس طرح اتنی بڑی مقدار میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گلگت بلتستان کے گلیشیرز کے تیزی کیساتھ پگھلاو کا سبب بن جاتا ہے ۔ نیز اس سے ان گلیشیرز پر گلیشائی جھلیں بن جاتی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشائی جھلیں پھٹ جاتی اور سیلاب آتاہے ۔اس سے نشیبی علاقوں کے رہائیشیوں کوجانی اور مالی نقصان کیساتھ ریاستی انفراسٹکچر کو نقصان پہنچاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ گلگت بلتستان میں گلیشیرز پر اثر انداز ہونے والے اس کاربن کی مقدار سے پاکستان کے سب سے بڑے واٹر سسٹم ( انڈس واٹرسسٹم ) جو ملک کے زراعت کا 60 فیصد اور پن بجلی کا 40 فیصد ضروریات پورا کرتا ہے وہ بھی متاثر ہوتا ہے جس سے براہ راست ملکی معشیت کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہونگے ۔

Gilgit18

سید زاہد حسین کا کہنا تھا کہ سردیوں میں گرم ہونے اور کھانا پکانے کے لئے استعمال ہونے والی لکڑی سے خارج ہونے والا کاربن کا منجمند پانی کے زخائر ( قدرتی گلیشیرز)کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے اور قدرتی گلیشیرز تیزی کیساتھ پگھل پرہے ہیں ان کو بچانے کے لئے گلگت بلتستان اور چترال میں توانائی کے لئے یہاں پر بہنے والے دریاوں پر پن بجلی کے میگا پراجیکٹ لگا کر ان پہاڑی علاقوں کو خطرناک ماحولیاتی آلودگی سے بچایا جاسکتا ہے اور قدرتی گلیشیرز کو محفوظ کیا جاسکتا ہے

Gilgit17

۔محکمہ موسمیات گلگت کے آفیسر سید کمال الدین نے بتایا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بڑے پیمانے اخراج موسمیاتی تبدیلیوں کا اہم زریعہ بن جاتا ہے ۔ قدرتی گلیشیشرز بالخصوص ہمالیہ ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی علاقوں میں سردیوں کے موسم میں آکسیجن کی مقدار کم سے کم ہوجاتی ہے ایسے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زیادہ اخراج پر کنڑول کرنے کے لئے تونائی کے متبادل زرائع پیدا کیے جائے اور قدرتی پانی کے وسائل سے مالامال اس خطے میں عوام کو ہیٹنگ اور کوکنگ کے لئے پن بجلی کے بڑے منصوبے تیار کیے جائے تو یعقینی طور پر کاربن کے اخراج کا معاملہ کنڑول ہوسکتا ہے ۔

Gilgit2

Share Button
Print Friendly

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس