u ​موسمی تغیر میں قید ماہی گیر | ٹی این این Share Button" />
Published On: Sun, Nov 1st, 2015

​موسمی تغیر میں قید ماہی گیر

مومل منظور

ٹی این این ، کراچی

کراچی میں ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری کی شہربانو ہمت وحوصلے کی اعلیٰ مثال ہے۔اس کا شوہر گزشتہ 19 سال سے فالج کا شکارہے جو ماہی گیری کے شعبے سے تعلق رکھتا تھا۔وہ نہ صرف فالج زدہ شوہر کاخیال رکھتی ہے۔ بلکہ گھراوربچوں کی دیکھ بھال بھی اس کی ذمہ داری ہے۔

سمندر میں جب جون جولائی میں پانی کی سطح  بلند ہوجاتی ہے توسب سے زیادہ ابراہیم حیدری ہی متاثرہوتاہے۔اگست اور ستمبر میں جب بھی سمندر میں پانی کی سطح بڑھتی ہے توپانی ان لوگوں کے گھروں تک آجاتاہے۔وہ مٹی سے اپنے گھر کی بھرائی کرکے پانی کی سطح کے اثرات سے گھر کو بچانے کی کوشش کرتی ہے۔

تین سال پہلے جب یواین ڈی پی نے شہربانو کو پکا گھربناکر دیا تھا تب اس کا گھر کافی اوپر کی سطح پرتھا لیکن تین سال بعد گھر کا صحن کافی نیچے بیٹھ گیاہےیہاں  تین سیڑھیاں تھیںجو کہ سمندری پانی کی وجہ سے ایک رہ گئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نہ صرف اس کے گھر کے حالات پراثرانداز ہورہی ہے بلکہ اس بچوں کی صحت پر بھی اثرات مرتب کر رہی ہے، سمندر کیا یہ پانی  اس کے گھر کے صحن اورگلی میں کھڑا ہوجاتاہے جس سے تعفن پھیلتا کئی بیماریاں اس کے گھر کا راستہ دیکھ لیتی ہیں۔مچھروں کی بہتاب سے ملیریا ہونا توعام سی بات ہے۔کھانسی،بخاراورخارش کا علاج کرنے کے لیے کوئی اسپتال موجود نہیں۔

پاکستان فشرفوک فورم کے چیئرمین ڈاکٹرمحمد علی شاہ کہنا ہے کہ حکومت نے اس علاقے کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ یہاں دور دور تک کوئی اسپتال نہیں ہے یہاں کہ کو علاج  معالجے کے لیے کئی میلوں کا سفرطے کرکے جناح اسپتال جانا پڑتا ہے۔

رواں سال موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سمندر کا درجہ حرارت بڑھ گیا اور قیامت خیز گرمی کی وجہ سے علاقے میں ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے کئی اموات واقع ہوئیں۔۔اکتوبر کے مہینے میں بھی ابراہیم حیدری کے علاقے میں گرمی کی لہر برقرار رہی عروس البلاد کہلانے والے شہر کراچی کے اس پسماندہ علاقے میں پینے کے پانی کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی کا کنواں کھودا ہوا ہے اور وہ آلودہ پانی پینے پر مجبورہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ترجمان غلام رسول کھتری بتاتے ہیں کہ ” زمین کے کٹاو اور پانی کی سطح بلند ہوجانے سے یہاں بسنے والے افراد کے لئے جہاں بنیادی سہولتیں ناپید ہیں جو ان کی معاشی مسائل کا باعث بن رہا ہے

درجہ حرارت میں اضافہ سے دنیا بھر کا موسم تبدیل ہورہا ہے اور اس کے اضافہ کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کا بگڑتا ہوا توازن ہے جوکہ صنعتی ترقی کا مرہون منت ہے ۔

درجہ حرارت بڑھنے سے دنیا کے عظیم گلیشیئر پگھل رہے ہیں جوکہ سطح سمندر میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سطح سمندر کے بلند ہونے کی اوسط رفتار 0.14 انچ /3.5 ملی میٹر سالانہ ہے۔

پاکستان کے ساحلی علاقے بھی  سطح سمندر بلند ہونے سے متاثر ہورہے ہیں، ملک میں ساحل 1050 کلو میٹر پر مشتمل ہے جس میں سے  350 کلو میٹر سندھ میں ہے ۔

کراچی کی صعنتوں سے نکلنے والا سارا کچرا اور زہریلا مادہ ساحل سمندر کی نذر کردیاجاتاہے۔جس کی وجہ سے سمندر کا پانی آلودہ اور زہریلا ہوگیا ہےاور اسی وجہ سے مچھلیاں صاف گہرے پانی میں چلی جاتی ہیں یا پھر مرجاتی ہیں جس کی وجہ سے مچھیروں کا روزگار نہ ہونے کے برابررہ گیا ہے۔

جیسے جیسے سمندر میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔۔ویسے ویسے علاقہ مکین خوف وہراس اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔علاقہ مکینوں نے سمندر کے پانی کوبڑھنے سے روکنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت ایک دیوار نماباڑ بھی لگائی ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔

ترقی کے نام پرشہر سے درختوں کی کٹائی اور فضا میں روز بروزگیسز کی مقدار بڑھ رہی ہے اس کے برعکس حکومت فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھارہی۔

Share Button
Print Friendly
Displaying 1 Comments
Have Your Say
  1. Noel John says:

    My Urdu is not good but this website is good for environment.

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس