u ماہی گیر سمندری لہروں اور قسمت کے کرم پر | ٹی این این Share Button" />
Published On: Mon, Nov 9th, 2015

ماہی گیر سمندری لہروں اور قسمت کے کرم پر

 

سید عمار یاسر زیدی

ٹی این این کیٹی بندر، ٹھٹہ

پوری دنیا موسمیاتی تغیرات کے  زیر اثر ہے لیکنپاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا جہاں ان موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر زیادہ ہے۔ شدید بارشیں، سیلاب ، گرمی میں شدت اس تغیر کے وہ اثرات ہیں جو پاکستان کی شہری آبادی محسوس کرتی ہے، مگر اس کے دیگر اثرات کو توجہ حاصل نہیں ہے۔

موسم میں تبدیلی کے نتیجے میں سطح سمندر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے اثرات دیہی آبادی پر پڑ رہے ہیں اور نتیجے میں بڑے پیمانے پر زمین بنجر ہو رہی ہے، سمندر کا پانی آہستہ آہستہ آگے بڑھتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ایک طرف سیم اور تھور کے مسائل بڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب کئی آبادیاں زیر سمندر آرہی ہیں اور آبادی نقل مکانی پر مجبور ہے۔

کیٹی بندر کے قریب گاؤں الھڈنو پٹیل کی آبادی قریب 80 افراد پر مشتمل ہے، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔اس گاؤں کے ایک رہائشی رمضان نے تقریباً 35کلومیٹر دور پانی کے وسط میں واقع علاقے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رمضان نے بتایا کہ یہ گاؤں جو آج اس مقام پر موجود ہے ،اس سے قبل وہاں آباد تھا مگر سمندر کا پانی آہستہ آہستہ آبادیوں کی طرف بڑھتا رہا ہے ، جس کے نتیجے میں انہیں وہاں سے نقل مکانی کر کے آگے یہاں آنا پڑا۔

موسم میں تبدیلی کے نتیجے میں سطح سمندر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے اثرات دیہی آبادی پر پڑ رہے ہیں اور نتیجے میں بڑے پیمانے پر زمین بنجر ہو رہی ہے

موسم میں تبدیلی کے نتیجے میں سطح سمندر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے اثرات دیہی آبادی پر پڑ رہے ہیں اور نتیجے میں بڑے پیمانے پر زمین بنجر ہو رہی ہے

رمضان کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ چند سال بعد یہ علاقہ بھی پانی کے زد میں آگیا تو ایک بار پھر انہیں نقل مکانی کرنا ہوگی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمندر کے پانی میں اضافے میں تیزی آتی جا رہی ہے ، ممکن ہے کہ اگلے چند ماہ میں انہیں یہاں سے نقل مکانی کرنی پڑے۔

رمضان پیشے کے اعتبار سے مچھیرے ہیں، نقل مکانی کے نتیجے میں انہیں مچھلیوں کی تلاش میں 5گنا طویل سفر طے کر کے سمندر میں جانا ہوتا ہے ، جہاں خود کو سمندری لہروں اور قسمت کے حوالے کر دیتے ہیں کہ کتنی مچھلی ملتی ہے؟ مچھلی لانے کے بعد ایک اور طویل سفر کر کے مچھلی کی فروخت کرنے جاتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سمندر میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں انسانی آبادیوں کی طرح مچھلیاں بھی ساحل چھوڑ کر گھرے سمندر میں چلی گئی ہیں، جس وجہ سے رمضان جیسے ہزاروں ماہی گیروں کو اب مطلوبہ مچھلی نہیں ملتی اور جو ملتی بھی ہے تو چھوٹے سائز کی وجہ سے دام مناسب نہیں ملتے۔

8افراد پر مشتمل گھرانے کے سربراہ رمضان کا کہنا ہے کہ زندگی انتہائی کٹھن ہو گئی ہے، پینے کا پانی لینے کے لیے  انہیں قریب ترین علاقہ سجن واری  جانا پڑتا ہے جہاں ایک گھنٹہ لگتا ہے جبکہ 18 لیٹر میٹھے پانی کے 4 ڈبے 50روپے کے ملتے ہیں اور جس روز کپڑے دھونے ہوں تو 4 مزید ڈبے لانے ہوتے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سمندر میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں انسانی آبادیوں کی طرح مچھلیاں بھی ساحل چھوڑ کر گھرے سمندر میں چلی گئی ہیں،

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سمندر میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں انسانی آبادیوں کی طرح مچھلیاں بھی ساحل چھوڑ کر گھرے سمندر میں چلی گئی ہیں،

اس گاؤں میں زندگی کی بنیادی سہولتوں کی کمی نہیں بلکہ بنیادی سہولتیں نا پید ہیں ۔ کچے گھروں کے یہ مکین بجلی ، پانی ، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے۔ پتھریلی اور جھاڑیوں سے بھرے اس علاقے میں ننگے پاؤں کھڑے رمضان کا کہنا تھا کہ اس گاؤں میں صرف 4سے 5افراد ہی نے بنیادی تعلیم حاصل کی ہے، معاشی مسائل اجازت ہی نہیں دیتے کہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ رمضان نے بتایا کہ اس علاقے میں قریب ترین اسپتال بگھاڑ  کے علاقے میں ہے ، زچگی میں پیچیدگی کی صورت میں اسپتال جانا پڑتا ہے، اس کے لیے بھی گاڑی کا کرایہ کم از کم 3ہزار روپے ہے، یہ پیسے چندہ کر کے جمع کیے جاتے ہیں ۔


یہ کہانی صرف ایک رمضان کی نہیں ہے، یہ گاؤں ابتدا میں 800 افراد پر مشتمل تھا، مگر جیسے جیسے سمندر کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ویسے ہی نقل مکانی ہوتی گئی کئی لوگ دیگر گاؤں چلے گئے ، اب اس کی آبادی سکڑ کر 80 افراد پر رہ گئی ہے ۔

رمضان اور اس کا خاندان مکان پکے نہیں کرواتا  کیونکہ سمندر کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے، اس کے باوجود سالانہ بنیادوں پر ان کچے مکانات کی مرمت پر کم از کم 20ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں، ان بگڑے معاشی حالات میں یہ رقم پہاڑ کی مانند ہے۔ رمضان کا کہنا تھا کہ جس تیزی سے سمندر آگے بڑھ رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ چند ماہ میں ایک بار پھر نقل مکانی کی تکلیف اٹھانی پڑے گی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے حکام آصف سندھیلو کا کہنا ہے کہ سطح سمندر میں اضافے کی وجہ ماحولیاتی تغیرات کو بھی سمجھا جاتا ہے، ضلع ٹھٹھہ ، بدین اور سجاول کی ساحلی پٹی سمندری مداخلت کے باعث زیادہ تر زمین بنجر ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے وسائل ختم ہونے کے باعث لوگ غیر محفوظ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ذریعہ معاش کے وسائل میں کمی اور غذائی عدم تحفظ کے باعث بہت سے لوگ دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

Share Button
Print Friendly
Displaying 1 Comments
Have Your Say
  1. Ali says:

    Nice Work, acha kam kar rahyeh hain app log. iss issue par kam ki kafi zaroorat hai pakistan main khas kar

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس