u میگروز کی گرتی دیوار اورسمندر کی پیش قدمی | ٹی این این Share Button" />
Published On: Fri, Oct 30th, 2015

میگروز کی گرتی دیوار اورسمندر کی پیش قدمی

​​

ذوالفقار راجپر

ٹی این این، کراچی

کراچی کی ساحلی پٹی پر آباد قدیم گوٹھوں کی آبادی کے لیے سمندر ی خطرات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ اس سلسلے میں ماحولیاتی ماہرین سمیت ماہی گیر رہنما ان سینکڑوں گوٹھوں کو سمندر بدر ہونے سے بچانے کے لئے مطالبات کرتے آرہے ہیں۔

ان میں انڈس ڈیلٹا کو ڈاؤن اسریم میں دس ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کرنے ، تمر (مینگروز) کے جنگلات کی حفاظت ، مزید درخت لگانے سمیت ساحلی پٹی پر کے ئے گئے ناجائز قبضے ختم کرانے کے مطالبات شامل ہیں جن پر علمدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے خطرات کے سائے طویل ہو رہے ہیں۔

کراچی کی 129کلومیٹر ساحلی پٹی پر موجود 150گوٹھوں میں سے تقریبا 25 گوٹھ سمندر کی سطح بلند ہونے سے پانی کی زد میں آگئے ہیں۔ ان گوٹھوں میں ریڑھی گوٹھ کے سید پاڑو، دبلا پاڑو، کورنگی کریک کا گوٹھ الیاس جت، کیماڑی کی یونین کاؤنسل گابو بٹ کے گاؤں، چشمہ گوٹھ، لٹھ بستی، ابراہیم حیدری کے کچھ حصے اور ہاکس بے کے کچھ گوٹھ بھی شامل ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق ان کے گھر اور ان کی زمین متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو کئی لاکھ روپے کا نقصان پہنچ رہاہے۔


چشمہ گوٹھ کے مکینوں رشیدہ جت، محمد جمن جت و دیگر نے بتایا کہ ہر سال جون اور جولائی کے مہینوں میں سمندر میں طغیانی کی موسم میں سمندری پانی گوٹھ میں داخل ہوکرتباہی کا باعث بنتا ہے ، اس پانی کو گوٹھ والے باہمی کوششوں سے نکالتے ہیں۔

اس عرصے میں وہ نزدیک واقع پہاڑی پر عارضی بسیرا کرتے ہیں ۔ اس سمندری آفات میں حکومت کی جانب سے تمام گاؤں والوں کے لیے  ایک وقت کے لیے پکے ہوئے چاول کی ایک دیگ دی جاتی ہے۔ جب کہ سمندری پانی استعمال کرنے سے ان کے بچے، خواتین اور ضعف العمر لوگ پیٹ کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

چشمہ گوٹھ میں برسوں سے ایک سکول کی عمارت موجود ہے لیکن اس پر تالا ملگا ہے، ابکہ طبی مرکز کی کوئی سہولت دستیاب نہیں۔ دس ہزار آبادی میں سے بمشکل ایک ہی فرد ہے جو میٹرک پاس ہے۔

 سمندری کنارے پر واقع ایک دوسرے گاؤں ریڑھی گوٹھ میں سمندر کے پانی کومکانات میں داخل ہونے سے روکنے کے لیئے گوٹھ میں لوگوں نے اپنے گھروں کو زمین کی سطح سے اوپر مکانات تعمیر کرائے ہیں۔

اس سلسلے میں گوٹھ کے مکینوں اسلم دبلا، کلثوم دبلا، حسن دبلا ودیگر نے بتایا کہ ہر سال جون اور جولائی کے مہینوں میں سمندر میں چڑہاؤ کے باعث  ان کا گاؤں زیر آب آجاتا ہے جس سے انہیں انتہائی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر سال کی اس مصیبت سے چھٹکارا دلانے کے لیئے جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ماروی میمن کی کوششوں سے ریڑہی گوٹھ اور سمندر کے سنگم پر دیوارتعمیر کی گئی ہے، اس دیوار نےانہیں کافی حد تک سہارا دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے آباؤ و اجداد نے اس صورتحال کے پیش نظرکئی فوٹ اونچائی پر لکڑی سے مکانات کی تعمیر کرائی تھی اور کھانا وغیرہ پکانے کا انتظام بھی وہان اوپر ہی کرتے تھے، جس کا سلسلہ ابھی بھی باقی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر سمندری گوٹھوں کی طرح ریڑھی گوٹھ میں بھی حکومت کی جانب سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت بجلی، گیس حتیٰ کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور روڈ کی سہولیات کا فقدان ہے۔

ایک عالمی ادارے کی جانب سے گوٹھ میں سمندری پانی سے بچاؤ کے سلسلے میں سطح سمندر سے کئی فوٹ اونچے ماڈل مکانات تعمیر کرائے گئے ہیں۔ جو سمندری ماحولیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر علی دہلوی کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح میں اضافہ کا سبب گلوبل وارننگ ہے۔ جس کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں جبکہ انڈس ڈیلٹا کو بچانے سمیت سمندرمیں طغیانی پر قابوپانی کے لیئے سندھو دریا کے پانی کے مقرر کردہ مقدار کو پانی میں چھوڑ نا انتہائی ضروری ہے۔

ماہی گیروں کی نمائندہ تنظیم فشرفوک کے چیئرمین محمد علی شاھ  کا کہنا ہے کہ مبارک ولیج سے لے کر لٹھ بستی اور چشمہ گوٹھ سمیت ساحلی پٹی پر موجود گوٹھوں میں سمندر کا پانی مکانات میں داخل ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سمندر کی فطرت میں تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سمیت سمندر میں مطلوبہ مقدار میں سندھو دریا کے پانی کی عدم فراہمی سے سمندر کی غضبناک لہروں کو نہیں روکا جا سکتا، اس کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر قدرتی طور پر اگلے والے تمر (مینگروز) کے جھنگلات کو بھی قبضہ مافیا کی جانب سے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے کاٹنے سے بھی سمندر کی لہروں کی رکاوٹ دور ہوتی ہے۔

مختلف سرکاری و نجی اداروں نے ساحلی پٹی پر ناجائز قبضہ کرکے تجارتی مراکز سمیت رہائشی مراکز تعمیر کر رکھے ہیں، جو سمندر کی ساحلی پٹی پر احولیاتی آلودگی پیدا کررہے ہیں۔

 ماحولیاتی ماہر ناصر پنہور کا کہنا ہے کہ تمر کے جنگلات سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے دیوار کا کام کرتے ہیں،


ماحولیاتی ماہر ناصر پنہور کا کہنا ہے کہ تمر کے جنگلات سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے دیوار کا کام کرتے ہیں،

ماحولیاتی ماہر ناصر پنہور کا کہنا ہے کہ تمر کے جنگلات سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے دیوار کا کام کرتے ہیں، جن کو بیدردی سے ختم کیا جارہا ہے۔ سندھو دریا میں مطلوب پانی نہ دینے سے بھی سمندر آگے بڑہ رہا ہے، جس سے خاص طور پر سمندر ی سطح اوپر ہونے کی وجہ سے ساحلی پٹی پرموجود انسانی آبادی کو ہر وقت خطرے کا امکان موجود رہتا ہے۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس