u ماہی گیروں کے جال میں پھنسی کارینج مچھلی با حفاظت آزاد | ٹی این این Share Button" />
Published On: Wed, Oct 14th, 2015

ماہی گیروں کے جال میں پھنسی کارینج مچھلی با حفاظت آزاد

دی نیچر نیوز رپورٹ
کراچی:

راس زرین پسنی بلوچستان کے سمندر میں ایک ۵ فٹ لمبی کارینج مچھلی جو کہ ایک ماہی گیر(ناخدا) بادشاہ نواب کی کشتی کے جال میں پھنسی پائی گئی ، جسے با حفاظت سمندر میں رہا کردیا گیا ۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک پریس رلیز میں دعویٰ کیا کہ ماہی گیروں نے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ایک آگاہی پروگرام کی وجہ سے کارینج مچھلی کو حفاظت سمندر میں رہا کیا ۔
سب سے پہلی کارینج مچھلی ۲۶ مئی ۲۰۱۴ کو اور دوسری ایک دیوہیکل ۲۳اگست ۲۰۱۵ کو با حفاظت رہا کیا گیا.

بین الاقوامی طور پہ اس بات کی تشویش ہے کہ کارینج مچھلی چونکہ بالغ ہونے میں بہت لمبا عرصہ لیتی ہے(۱۰ ، ۸ سال سے زائد)اور انکی عمر طویل ہوتی ہے(تقریباً ۴۰ سال سے زائد)مگر انکی تولیدگی بہت سست ہوتی ہے. ایک کارینج مچھلی ۵سے۲ سال میں ایک بچے کو جنم دیتی ہے.یہ پٹن (Sting Ray ) کی ایک ایسی قسم ہے جوکہ دنیا بھراپنی کرشماتی خوبصورتی اور نرم طبیعت اور تجسس اور چنچل رویہ کی وجہ سے بہت مشہور ہے . ایسی وجہ سے کئی ممالک میں سیاح ان کارینج کو قدرتی ماحول میں دیکھنے کے لئے ۱۴ کروڑر ڈالر سالانہ خرچ کرتے ہیں.
انکی تعداد کی بے تحاشہ کمی کا ایک سبب روایتی چینی طریقہ علاج ان مچھلیوں کے گلپھڑوں کا ا ستعمال ہے.حالانکہ انکی صحت میں فوائد کو سائنسی طور پر ثابت نہیں کیا جاسکا ہے مگر گلپھڑوں کی بین الاقوامی منڈی میں طلب کی وجہ سے بہت سارے ملکوں میں ماہی گیر کارینج مچھلی کا بے تحاشا شکار کرنے پر مجبور ہیں.خوش قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان سے اس مچھلی کے گلپھڑیں برآمد نہیں کئے جاتے مگر اسکے باوجود پاکستان کی رچ جال (Gill net) کی ماہی گیری میں کارینج مچھلی اکثر پکڑی جاتی ہے.

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تربیت یافتہ ماہی گیر بہت ساری غیر مہدف اور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہونے والی اقسام کو با حفاظت آزاد کودیتے ہیں. ۲۰۱۳ ؁ ء سے ڈ بلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے جب سے اس تربیتی پروگرام کا آغاز کیا تھا، ۱۴ ویل شارک ( shark whale) ، ۳ کارینج (Mobulids)، ۲ ملھار(Dolphin) ، ا ور ہزاروں کچھوؤں کو کا میابی کے ساتھ آزاد کیا جاسکا ہے. ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائیریکٹر (حیاتی تنوع) ماہی گیروں کی جانب سے ان نا یا ب اقسام کے جانوروں کو با حفا ظت آ زاد کرنے کو ایک نیک شگون قرار دیا ہے کیونکہ ما ہی گیر اب ایسے جانوروں جو کہ معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں ، انکے تحفظ کے اقدام میں شامل ہیں.کئی مواقع پر ما ہی گیروں کو اپنے مہنگے جالوں کو ان جانوروں کی رہائی کے دوران ضائع کرنا پڑتا ہے.


Entangled mobulid ray rescued by fisherman in... by TNN_Urdu

محمد معظم خان ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان مشیر کے مطابق کارینج مچھلی کی ایک عظیم ہیتّ مچھلی کی قسم ہے جو کہ شارک اور پٹن کے کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے. کارینج مچھلی کی کچھ اقسام عظیمُ جثہ ہوتی ہیں مثلاً (Manta) کی جسا مت تقریباً ۹ میٹر تک ہو سکتی ہے.یہ مچھلیاں عام طور پر گرم اورمنطقہ حارہ کے علاقے میں پائی جاتی ہیں.یہ مچھلیاں نہ صر ف انتہائی سستی اور خوبصورتی سے تیرتی ہیں بلکہ ایک ماہر بازیگر کی طرح ا ڑتی بھی ہیں .

کارینج مچھلی کی پاکستان میں۶ اقسام پائی جاتی ہیں جس میںManta birostrisکارینج میں پائی جانے والی سب سے بڑی مچھلی ہے. یہ ۱۹۷۰ کی دہائی میں خاصی تعداد میں پائی جاتی تھی جن کی جسامت ۷ میٹرتک بھی تھی اور یہ چرنہ جزیرے کے اردگرد دھوپ سیکتے یا فضا میں اڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے.گزشتہ ۳۰ سالوں سے اس مچھلی کے پائے جانے کا کوئی ثبوت نہیں تھا مگر اپریل ۲۰۱۴ ؁ ء اور اکتوبر ۲۰۱۵ میں اس کے دو نمونے پائے گئے.ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کارینج مچھلی کی ایک اور قسم جسے Manta alfredi کہا جاتا ہے اسے پہلی دفعہ رپورٹ کیا.Manta کے دو اقسام کے علاوہ Mobulaکی ۵ اقسام پائی جاتی ہیں جسمیں لمبے سینگھ والی کارینج (Mobula eregoodootenkee) کا نٹے دار دم والی کارینج (Mobula jabonica)چلی کی شیطانی پٹن(Mobula tarapacana) چھوٹی دم والی شیطانی پٹن (Mobula Kuhlii) اورہموار دم والی کارینج(Mobula thrustoni) شامل ہیں. کارینج کی یہ اقسام ماہی گیروں کے جال میں ضمنی شکار کے طور پر پکڑی جاتی ہے حالانکہ انکی تجارتی مقدار کا تعین نہیں کیا گیا ہے مگرڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے جولائی ۲۰۱۳ ؁ ء میں کارینج مچھلی سے متعلق ایک منصوبے کا آغاز کیا جس سے یہ بات
ظاہر ہوئی کہ سالانہ طور پہ کارینج مچھلی کی تقریباً۱۵۰۰ ہزار ٹن مقدار پکڑی جاتی ہے.

Share Button
Print Friendly

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس