u سمندری چڑہاؤ ہ سے زندگی دشوار | ٹی این این Share Button" />
Published On: Mon, Oct 26th, 2015

سمندری چڑہاؤ ہ سے زندگی دشوار

​​

رقیہ اقبال

ٹی این این ، کراچی

چٹائیوں اور بانس کی مدد سے بنائی گئی ایک چھوٹی سی جھونپڑی جس میں بہ مشکل ایک فرد کے بیٹھنے کی جگہ تھی فاطمہ لکڑیوں پر روٹیاں بنارہی تھی۔ شدید گرمی اور پھر ان لکڑیوں سے نکلنے والی دھوئیں کی وجہ سے وہ پسینے میں شرابور تھی۔ فاطمہ کا شوہر ماہی گیری کرتا ہے ، کبھی تو اچھا شکار ہوجاتا ہے اور کبھی خالی ہاتھ بھی واپس آنا پڑتا ہے۔

کراچی شہر کے مرکز سے تقریبا 28 کلومیٹر دور یہ ماہی گیروں کی بستی ریڑھی گوٹھ ہے۔ جس کے ایک طرف کچھ پکے اور کچھ چٹائیوں اور بانس کی مدد سے کچے مکانات بنے ہوئے ہیں جب کہ درمیان سے ایک  پکی روڈ جارہی ہے تھوڑا آگے سمندر ہے، جہاں دس میٹر لمبی ایک دیوار بنی ہے تاکہ پانی کو آگے بڑہنے سے روکا جاسکے۔

سطح سمندر بلند ہونے سے بستیوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے مینگروز کے پودے لگائے جاتے ہیں، لیکن یہاں یہ پودے بہت کم دیکھنے میں آئے ، یہ پودے سطح سمندر کو بلند ہونے سے روکنے میں مدافعت کا کام کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں ،گیس نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی اسے ایندھن کے لیے استعمال کررہی ہے۔

ریڑھی گوٹھ میں سمندر سے تھوڑی دور یو این ڈی پی کی جانب سے کچھ لوگوں کو پکے مکانات بنا کر دیے گئے ہیں، جن کی دیواریں سیمینٹ کی ہیں اور چھتیں بانس سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ یہ مکانات زمین سے چار فٹ اوپر بنائے گئے تھے لیکن اس گھر کے مکینوں نے اسے ایک فٹ مزید اونچا کیا تاکہ پانی کو گھر میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔

ان مکانات کی ایک رہائشی اسما نامی خاتون نے بتایا کہ ہر سال جون جولائی میں پانی دس فٹ اونچی سمندری دیوار پھلانگ کر ان کے گھروں میں گھس جاتا ہے جس کے باعث انہیں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان دنوں انہیں کھانا پکانے میں بہت دقت ہوتی ہے، اور کبھی جب پانی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے تو انہیں اپنے گھروں کو چھوڑ کر اسکولوں میں پناہ لینا پڑتی ہے، اسما یہاں اپنے شوہر ممتاز اور دوبچوں کے ہمراہ رہتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے حکام آصف سندھیلو کا کہنا ہے کہ سطح سمندر میں اضافے کی وجہ ماحولیاتی تغیرات کو بھی سمجھا جاتا ہے، ضلع ٹھٹھہ ، بدین اور سجاول کی ساحلی پٹی سمندری مداخلت کے باعث زیادہ تر زمین بنجر ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے وسائل ختم ہونے کے باعث لوگ غیر محفوظ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ذریعہ معاش کے وسائل میں کمی اور غذائی عدم تحفظ کے باعث بہت سے لوگ دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹھٹہ ، کیٹی بندر اور کھاروچن میں تقریباً چار ہزار خاندان آباد ہیں جو کہ ساٹھ بستیوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ گزشتہ چالیس سالوں میں ان میں سے اٹھائیس بستیاں سسمندری پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث ڈوب چکی ہیں۔ لہذا ایڈاپٹیشن پلانز بدلتے ماحولیاتی پیٹرن سے نمٹنے میں کمیونٹیز کی بہتر مدد کرسکتے ہیں۔


یواین ڈی پی سے وابستہ مسعود لوہار کا کہنا ہے کہ ہماری ایکولوجی تبدیل ہوچکی ہے جس کے باعث کافی بڑی ماحولیاتی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں، مون سون ناردرن ایریاز میں کبھی نہیں جاتا بلکہ وہاں جاکر ختم ہوجاتا ہے لیکن اب وہ بھی اپنا پیٹرن تبدیل کررہا ہے اور اور وہاں تک جارہا ہے۔ اس کے علاوہ سطح سمندر کا بلند ہونا، خشک سالی، شدید گرمی کی لہر وغیرہ یہ سب ماحولیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہے۔

مسعود لوہار کے مطابق پاکستان سینیٹ کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے پرائم منسٹر کو خط لکھا کہ ٹھٹہ اور بدین 30 سالوں میں جبکہ کراچی 60 سالوں میں ڈوب جائیں گے لیکن حکومت نے ابھی تک اس پر کوئی ایکشن پلان نہیں بنایا ہے۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email
Displaying 3 Comments
Have Your Say
  1. well written Ruqaiya keep it up

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس