u آبی آلودگی : کراچی کی دو سو صنعتوں کو۱۵ دن میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ہدایت | ٹی این این Share Button" />
Published On: Tue, Oct 20th, 2015

آبی آلودگی : کراچی کی دو سو صنعتوں کو۱۵ دن میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ہدایت

اسٹاف رپورٹر
: کراچی

ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ (ا ی پی اے سندھ)نے صنعتی آلودگی کی روک تھام کے لیے منگل کے روز کراچی کے مختلف صنعتی علاقوں میں قائم حد سے زیادہ آبی آلودگی پھیلانے والی دو سو صنعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی فیکٹری میں جلد از جلد ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب یقینی بنانے کے لیے فی الفورعملی اقدامات اُٹھائیں اور اس ضمن میں پیشقدمی کی نگرانی کے لیے ادارے کی ٹیمیں پندرہ یوم کے اندر اندر مذکورہ فیکٹریوں کا دورہ کریں گی اور ان کے آبی اخراج کے نمونے بھی حاصل کریں گی تاکہ مقررہ حدود سے زائد آلودگی کے عناصر کی موجودگی کی صورت میں ذمہ دار صنعتوں کے خلاف سند ھ کے تحفظ ماحول کے قانون 2014کے تحت قانونی کارروائی بھی کی جاسکے۔
منگل کے روز جاری ایک پریس رلیز کے مطابق ای پی اے سندھ کے ڈائریکٹرز جناب وقار حسین پھلپوٹو اور ڈاکٹر عاشق علی لانگھا کے دستخطوں سے نکلنے والے نوٹسز میں آلودگی پھیلانے والی مذکورہ دو سو صنعتوں کو سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی فرد یا ادارے کو کسی بھی ایسے آبی، فضائی یا ٹھوس اخراج کی ہرگز اجازت نہیں جس میں آلودگی پھیلانے والے مختلف عناصر کی تعداد سندھ کے ماحولیاتی معیارات سے متجاوز ہو، اور ایسا کرنے کی صورت میں ای پی اے سندھ مذکورہ قانون کے تحت ایسی صنعت کو جرمانے یا قید اور احکامات یکسر نظر انداز کرنے کی صورت میں بند بھی کرسکتی ہے۔
آلودگی پھیلانے والی مذکورہ صنعتوں میں سے زیادہ تر کورنگی انڈسٹریل ایریا، سائٹ انڈسٹریل ایریا اور دیگر صنعتی علاقوں میں واقع ہیں اور اُن میں سے کثیر تعداد ٹیکسٹائل، فارما، فوڈ ، کیمیکل اور متفرق سیکٹرز سے وابستہ ہیں۔

دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں کچرہ غیر مقررہ جگہوں پر پھینکنے اور اُسے کھلے عام جلانے کی عوامی شکایات پر ایڈمنسٹریٹرز کراچی میونسپل کارپوریشن، زونل میونسپل کارپوریشنز ملیر اور کورنگی، ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈز کلفٹن، فیصل، کراچی، کورنگی، ملیر اور منوڑہ کے کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسرز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ای پی اے سندھ نعیم مغل نے کہا ہے کہ مذکورہ اداروں کی انتظامی حدود میں غیرمقررہ جگہوں پر گھریلو و صنعتی کچرے کو ٹھکانے لگایا جارہا ہے جو سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014اور قومی ماحولیاتی معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول کی دفعہ 21کی ذیلی دفعہ 1کے تحت ملنے والے اختیار کی رو سے ڈی جی ای پی اے سندھ نے مذکورہ اداروں کے سربراہوں مذکورہ معاملے کی وضاحت کی ضمن میں ذاتی شنوائی کے لیے بہ نفس نفیس 26اکتوبر2015کو بہ وقت 12بجے اپنے آفس واقع کورنگی انڈسٹریل ایریا میں پیش ہونے کا بھی جاری کئے گئے نوٹس میں لکھ دیا ہے۔

ایک اور کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ای پی اے سندھ نے کورنگی اور ملیر ڈسٹرکٹ کی میونسپل کارپوریشنز کے ایڈمنسٹریٹرز کو اُن کی انتظامی حدود میں واقع گرین بیلٹس اور پبلک پارکس میں غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں کی شکایات پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود پارکس، گرین بیلٹس کی الاٹمنٹ اور موجودہ صورتحال، زمین کے استعمال کی نوعیت میں تبدیلی، تجاوزات اوردیگر ثانوی معلومات کی تفصیلات کے ساتھ26اکتوبر 2015کو بہ نفس نفیس پیش ہوں۔

نوٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ اداروں کو دی گئی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اُن کے خلاف سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحول 2014کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس