u صدر مملکت کا دورہ، گلگت انتظامیہ نے ہزاروں ٹن کو ڑا دریا سندھ میں پھینک دیا | ٹی این این Share Button" />
Published On: Thu, Oct 23rd, 2014

صدر مملکت کا دورہ، گلگت انتظامیہ نے ہزاروں ٹن کو ڑا دریا سندھ میں پھینک دیا

???????????????????????????????

منظر شگری دی نیچر نیوز
گلگت
صدر مملکت ممنون حسین کے دورے میں ہزاروں ٹن کچرا دریا سندھ کے صاف پانی میں پھینک کر صاف شفاف پانی کو آلودہ کیا گیا۔صدر پاکستان اپنا دوروزہ دورہ گلگت مکمل کرکے بدھ کے روز اسلام آباد واپس تو چلے گئے لیکن ان کا یہ دورہ ملک کے سب سے بڑے آبی وسائل دریا سندھ کے پانی کو آلودہ کرنے کا سبب بنا۔ بدھ کے روز صدر پاکستان قراقرم یونیورسٹی میں ایک تقریب میں شرکت کے لئے جارہے تھے کہ یونیورسٹی روڑ جس میں شہر بھر سے روزانہ سینکٹروں من کچرا جمع کرکے ڈیر لگایا جاتا ہے اور بلدیہ گلگت کے حکام کو ڈپٹی کمشنرگلگت نے ہدایت کی کہ صدر پاکستان کی اس گزر گاہ میں پڑے ہزاروں ٹن کچر کو فوری طور پر دریا میں ڈالا جائے تاکہ جب صدر ممنون حسین یہاں سے گزر جائے ان کی نظر اس کچر پر نہ پڑے ۔

baldiya gilgit

ریاست کے سربراہ کے گزر گاہ پر موجود اس کچرے کو مقامی انتظامیہ کی مدد اور حکم پر بلدیہ گلگت نے دریا سندھ کے نیلے اور شفاف پانی کے موجوں کے نظر کردیا۔بلدیہ گلگت کے ایک زمہ دار اہلکار سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کچرے کی مقدار ہزاروں ٹن تھیں اور کئی برسوں سے بلدیہ گلگت کے پاس کچرا ٹھیکانے لگانے کے لئے مناسب جگہ نہ ہونے کیوجہ سے قراقرم یونیورسٹی روڑ پر جمع کرکے اس پر آگ لگا دیتے ہیں لیکن صدر پاکستان ممنون حسین کے اس روڑ سے گزرنے کی اطلاع پر انتظامیہ نے کچرے کو دریا کے پانی میں ڈالنے کا حکم دیا جس پر مشنری کے زریعے کچرے کو دریا برد کیا گیا۔

کچرے کو دریا برد کرنے کے حوالے سے ماہرین ماحولیات سے رابطہ کیا گیا اور اس کے نقصانات کے حوالے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ دریا میں ڈالنے والے اس کچرے کے اثرات نشیبی علاقوں میں دریا کا پانی پینے کے لئے استعمال کرنے والے انسانوں کے علاوہ جانوروں کے لئے بھی کئی سال تک مضر صحت ہوگا جبکہ اس پانی کو زراعت کے شعبے کے لئے استعمال کرنے سے پیدا ہونے والی فصل کی پیداوار میں کمی ہوگی بلکہ اس فصل کو انسانی غذاء کے لئے استعمال کرنے والے افراد بھی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ صدر پاکستان کے دو روزہ دورہ ملک کے شہریوں کو دریا سندھ میں کئی سال تک آلودہ پانی کا موجب بن گیا۔

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس