u لٹل لندن کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا سامنا | ٹی این این Share Button" />
Published On: Mon, Sep 22nd, 2014

لٹل لندن کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا سامنا

Quetta

 

کوئٹہ ، بلوچستان

نادر جیلانی

کوئٹہ کسی زمانے میں چھوٹا لندن اور پاکستان کا “پھلوں کا باغ” کے طور پر مانا جاتا تھا۔ بدقسمتی سےیہ اب درجہ حرارت میں اضافہ، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اپنے سرد موسم اور خوشگوار آب و ہوا کی خصوصیات کو کھوتا جارہا ہے۔

76 سالہ شخص محمد انور نے ٹی این این سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وادی کوئٹہ سطح سمندر سے 5500 فٹ کی اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے ہمیشہ لوگوں کے لئے پرکشش رہی ہے۔ مگر اب شدید گرم اور خشک دھول والے علاقے میں بدل رہی ہے۔ کم و بیش سال کے بارہ مہینے یہاں پہاڑ برف پوش رہا کرتے تھے۔ ہم موسم گرما میں سندھ سے بہت سے رشتہ داروں کی میزبانی کرسکتے تھے۔ مگر آج کل دیگر صوبوں کے سیاح اپنی چھٹیاں گذارنے کے لئے مشکل ہی سے کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں۔

سیف اللہ شامی،محکمہ موسمیات کے ریجنل ڈائریکٹر نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ نہ صرف شہریوں نے محسوس کیا ہے بلکہ محکمہ موسمیات نےبھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ میں حالیہ دنوں میں درجہ حرارت میں اضافہ 3 ڈگری سے 3۰5 ڈگری ہو چکا ہے۔موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ کا باعث بنی ہے اور ہم بھی ماورا نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئٹہ کا ماحولیاتی مسائل پیدا کرنے میں بہت کم حصہ ہے مگر اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔

 _DSC0367کوئٹہ کو ابتدائی طور پرایک لاکھ سے بھی کم لوگوں کے رہنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ لیکن اب اس شہر کی آبادی 25لاکھ ہے اور آبادی کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جارہی ہے۔

عالمی سطح پر گیسوں کا اخراج کوئٹہ کے درجہ حرارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اس اخراج میں شہر کے اپنے لوگوں کا بھی حصہ ہے۔ یہ پرہجوم شہر گاڑیوں سے نکلنے والے مختلف قسم کے دھوؤں سے گھٹا ہوا ہے۔ جو کہ نہ صرف ماحول کو آلودہ کررہا ہے بلکہ وادی کوئٹہ میں درجہ حرارت میں اضافہ کا سبب بھی ہے۔

ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر بلوچستان چیپٹرکے ایک عہدیدار موسی خیل کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی، درختوں کی مسلسل کٹائی، بارشوں کی قلت اور غفلت درجہ حرارت میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ترقی یافتہ ممالک سے درآمد کی گئی استعمال شدہ مشینوں کی بھاری طلب نے کوئٹہ کو استعمال شدہ آلات کا کوڑا گھر بنادیا ہے۔

1990 کے بعد افغانستان میں روسی جارحیت کے نتیجے میں کوئٹہ نے مہاجرین کی آمد کا سامنا کیا ایک سادہ اندازے کے مطابق 20 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین بلوچستان بھر میں رہ رہے ہیں اور ان کی اکثریت کوئٹہ میں رہائش پذیر ہے.1990 کے بعد سریاب روڈ پر موجود درختوں کو فوری طور پر صاف کیا گیا اور دیگر مقامات پر بھی سڑکوں کو چوڑا کرنے کے لئے درخت کاٹ دیئے گئے لیکن ماحول کو بچانے اور نئے درخت لگانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سمیع بلوچ نے کہا کہ انتخابات میں بلند و بالا دعوؤں کے باوجود ماحولیات صوبے میں حکومتوں کے لئے کبھی بھی سنجیدہ مسئلہ نہیں رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے کوئٹہ میں ہر سال ہزاروں پودے لگائے جاتے ہیں لیکن ان کے درخت بننے تک کے لئے کوئی حفاظتی طریقہ کار وضع نہیں کیا جاتا اور نہ ہی لوگوںمیں اتنی آگاہی ہے کہ ماحول کے لئے جہاں وہ اور انکے بچے سانس لیتے ہیں درخت کتنے ضروری ہیں۔

بولان میڈیکل کالج کے ڈاکٹر منیر احمد نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت اپنے دیگر بد اثرات کے ساتھ ساتھ شہر میں صحت کے مسائل کو بھی ہوا دے رہا ہے۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ ہوا سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ حلق اور پھیپھڑوں کی بیماریاں شہر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں شامل ہیں۔ صاف ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی رضاکارخوف کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کرنے ، گاڑیوں کی تعداد میں اضافے کو روکنے اور زمین سے مسلسل پانی نکالنے کی روک تھام کے لئے بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو کوئٹہ شہر پس منظر میں چلاجائےگا۔ نااہل گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی اور ماحولیاتی قوانین کا نفاذ کوئٹہ کو ناکام شہر بننے سے بچانے کے لئے ناگزیر ہیں۔

Share Button
Print Friendly

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس