u ​آبادی کیساتھ بڑھتا کچرا | ٹی این این Share Button" />
Published On: Thu, Jul 17th, 2014

​آبادی کیساتھ بڑھتا کچرا

_DSC0527

محمد فاروق صدیق

  : ٹنڈومحمدخان ، سندھ

ٹنڈومحمدخان شہر سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے 30کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں پھلیلی نہر کے دونوں کناروں پر آباد ہے ، جس کی آباد ی تقریبان ساڑے پانچ لاکھ افراد پر مشتمل ہے ، گنجان آبادی کے سبب شہر میں بڑتی ہوئی گندگی ، صفائی کا عملہ تمام کوڑ ا کرکٹ خواجہ محلہ میں جمع کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے شہر کے وسط میں گندگی کے سبب راستہ چلنا دشوار ہوگیا ہے ، تمام گندگی میں روڈ کو گھیر لیا ہے ، کیوں کہ یہ ایک عام شاہراہ ہے اس کچرے سے گذر کر اسکولوں ​​کے طلبہ وطالبات و عام شہری گذرتے ہیں مذکورہ گندگی کے ڈھیر کیساتھ ہی بلدیہ کا دفتر بھی واقع ہے ، اس کچرے کے ڈھیر سے تعفن اٹھتا ہے ، اس طرح کے کچرا کندی کے کئی ڈھیر شہر میں جا بجا ء بنے ہوئے ہیں جس کو لوگ آگ لگا کر جلا بھی دیتے ہیں جس کے سبب آلودگی بڑھنے لگتی ہے ،

جبکہ بلدیہ کا کام ہے کہ اس گندے کچرے کے ڈھیروں کو شہر سے باہر منتقل کریں خواجہ محلے کے رہائشی نے اپنے خیال سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ ٹنڈومحمدخان بلدیہ کو شاید یہ آگاہی نہیں ہے کہ گندگی کے ڈھیروں کو محلوں اور شہری علاقوں میں جمع نہیں کیا جاتا ہے ، یہاں پر چند قدم آگے بچوں کے اسکول ہیں اور اسکول کے بچوں کی صحت پر اس گندے کچرے سے اٹھنے والی تعفن اور جراثیم کے سبب برا اثر پڑیگا ، اس کچرے کو اکثر صفائی کا عملہ جلادیتے ہیں تاکہ وزن اٹھانا نہ پڑے جبکہ کچرے کو جلانا قانونی جرم ہے ، جبکہ اس کچرے کو شہر کے باہر کسی غیر آباد جگہ پر پھینکنا چاہیے محلے کے سابق کاؤنسلر منور نے کہاکہ یہ سارا قصور بلدیہ کے صفائی عملے کا ہے جو کہ شہر کا کچرا یہاں محلے کے بیچ میں پھینک جاتے ہیں جبکہ وہ سامنے بلدیہ کا آفیس ہے اور مختیار کار آفیس ، پوسٹ آفیس ، لڑکے ، لڑکیوں کے اسکول ہیں جس میں مستقبل کے معمار تعلیم حاصل کرتے ہیںیہ عوامی رابطہ کے مقامات ہیں ، بلدیہ کو یہاں پر سے کچرے کے ڈھیر ختم کرنے چاہیں یہ انسانوں کی جانوں سے کھیلنے کے متعارف ہیں چاہیے یہ کہ عوام کچرے اور گندگی کے ڈھیر کو شہر سے باہر جمع کیا جائے ، تاکہ ماحول صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک ہو ۔

​ڈپٹی کمشنر ٹنڈومحمدخان آصف میمن  نے کہاکہ ٹنڈومحمدخان پہلے تحصیل تھا اب کچھ عرصے سے اس کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا ہے نیا ضلع ہونے کے سبب کافی مسائل ہیں ہماری پہلی ترجیح صفائی صحت اور تعلیم ہے یہ عوام کا بنیادی حق ہے ان کو پہنچانہ ہمارا فرض ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں نے بلدیہ احکام کو آرڈر کردیا ہے اور جلد شہر میں صفائی کا کام شروع ہوجائیگا جبکہ آلودگی کے خاتمے کیلئے ہم جلد ہی روڈ کے دونوں جانب پودے لگوائیں گے جس سے آلودگی کا خاتمہ ہوگا مجھے خوشی ہے کہ ہم سب کا فرض ہے کہ درختوں کے پودے لگوانے میں آگے آئیں میں ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہوں ۔

بلدیہ ایڈمنسٹر یٹر جاوید راجپڑنے بتایا کہ ہمارا ماہانہ فنڈ حکومت سندھ سے 99لاکھ روپے ملتا ہے ،جبکہ تنخواہوں کی مد میں ایک کروڑ دس لاکھ ہیں ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بقایا رقم بلدیا ت کو مختلف ٹیکسوں کی مد میں شہر سے وصول ہوتے ہیں شہر میں کچرا کوڑا اور صفائی کے بارے میں انہوں نے دعوایٰ کیا کہ ہمارے پاس پندرہ ہاتھ ٹرالی ہیں اور تقریبان چار چنگچی گاڑیا ں ہیں ، ایک بڑا ڈمپر اور ایک ٹریکٹر ٹرالی موجود ہے ، جوکہ چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے شہر تنگ راستوں سے گندگی اٹھا کر باہر جمع کرتے ہیں اور بڑی گاڑیوں کے ذریعے شہر سے باہر کسی گڑے میں ڈال دیتے ہیں جبکہ صفائی کا عملہ دن رات محنت کرر ہا ہے جبکہ عملے کو کچرا جلانے کی سخت ممانیت ہے ، ہمارا کام شہریوں کو سہولیات پہنچانا ہے ۔ ​

Share Button
Print Friendly, PDF & Email

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Connect with us on social networks

گوگل پلس